اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں پر اویسی کا مرکز سے سوال
پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے حال ہی میں ہندوستانی فوج کی گشت کرنے والی ٹیموں کو ان علاقوں تک پہنچنے سے روک دیا
حیدرآباد : اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی نے اروناچل پردیش میں چین کی سرحد کے ساتھ مبینہ صورتحال پر نریندر مودی حکومت سے سوال کرتے ہوئے الزام لگایا کہ مرکز کی مسلسل خاموشی نے سنگین تشویش پیدا کر دی ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں مسٹر اویسی نے پوچھا کہ کیا پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) نے حال ہی میں ہندوستانی فوج کی گشت کرنے والی ٹیموں کو ان علاقوں تک پہنچنے سے روک دیا ہے جہاں وہ پہلے گشت کرتی تھیں اور کیا اس نے ہندوستانی سرزمین پر ہندوستانی فوج کی جانب سے بنائے گئے عارضی ڈھانچے کو ہٹا دیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ کیا پی ایل اے نے اس علاقے میں خیمے لگا لیے ہیں جہاں پہلے ہندوستانی گشتی دستے سرگرم رہتے تھے اور کیا حکومت ہندوستانی فوج سے علاقے میں گشت کے حقوق کے لیے سختی سے اصرار نہ کرنے کو کہہ رہی ہے تاکہ اگلے ماہ چینی صدر شی جن پنگ کے مجوزہ دہلی دورے سے قبل حالات معمول پر دکھائے جا سکیں۔
مسٹر اویسی نے مزید سوال کیا کہ کیا مودی حکومت نے چین کی سرحد کے ساتھ ہوئی پیش رفت سے ہندوستانی عوام کو بے خبر رکھنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کا موازنہ 2017 میں ڈوکلام تعطل اور 2020 میں لداخ سرحدی کشیدگی کے دوران کی صورتحال سے کیا۔
انہوں نے کہا کہ "حکومتیں آتی جاتی ہیں، وزرائے اعظم آتے جاتے ہیں، لیکن ہندوستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری سے سمجھوتہ کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ مقدس ہے۔”