مشرق وسطیٰ

سعودی عرب میں 2 خواتین سمیت 5 افراد کو سزائے موت

ملزمان کی جانب سے مغویہ کو نشہ آور اشیا دینے کے بعد بجلی کے جھٹکے دیے اور اس پر تشدد کیا جس کے بعد ویران جگہ پر پھینک دیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

ریاض: سعودی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ریاض میں ایک شہری کے اغوا، تشدد اور ہلاکت میں ملوث دو خواتین سمیت 5 افراد کو سزائے موت دیدی گئی۔

متعلقہ خبریں
یوم عاشقان کے دن محبت کی سزا۔ جانئے یہ سنسنی خیز راز
سعودی عرب کا اسرائیل کے خلاف اہم بیان
فلسطینی ریاست کے قیام کے بغیر اسرائیل سے تعلقات ممکن نہیں
جدہ میں سرید ھربابو کا آرامکو اور الشریف گروپ سے تلنگانہ میں سرمایہ کاری پر تبادلہ خیال
مسئلہ فلسطین حل ہوجائے تو اسرائیل کو تسلیم کیا جاسکتا ہے: سعودی وزیر

سعودی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ مشعل بن علی بن محمد البی، ابراہیم بن عبداللہ بن علی بن سید المساوی، سلطان بن محمد بن غرامہ الاسمری، عبیر بنت علی بن ظافر آل محمد العمری اور بیان بنت حافظ بن علی صدیق (یہ تمام سعودی شہری ہیں)، نے خالد بن دلاک بن محمد حامظی (سعودی) کو اغوا کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اس کی موت واقع ہوگئی۔

بیان کے مطابق گرفتاری کے بعد ملزمان نے اعتراف کیا کہ انہوں نے دھوکے سے خالد بن دلاک کو ایک جگہ بلایا اور اسلحے کے زور پر یرغمال بنا کر اپنے ساتھ لے گئے اور ایک مکان میں قید کردیا۔

ملزمان کی جانب سے مغویہ کو نشہ آور اشیا دینے کے بعد بجلی کے جھٹکے دیے اور اس پر تشدد کیا جس کے بعد ویران جگہ پر پھینک دیا جس سے اس کی موت واقع ہوگئی۔

وزارت کے مطابق سیکیورٹی فورس نے تمام ملزمان کو تلاش کے بعد حراست میں لے کر عدالت کے روبرو پیش کیا، جہاں ملزمان نے اپنے جرم کا اقرار کرلیا، جس پر عدالت نے انہیں موت کی سزا کا حکم دیا۔

اپیل کورٹ نے عدالتی فیصلے کو برقرار رکھا۔ ایوان شاہی نے عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کا حکم صادر کیا جس پر اتوار کو ریاض میں عمل درآمد کرایا گیا۔