محبت کی سرزمین ہندوستان، ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ کے زیر اہتمام شاندار جشنِ یومِ جمہوریہ
محبت، بھائی چارہ اور کثرت میں وحدت کی علامت ہندوستان میں یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ و اسلامک ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا۔
حیدرآباد: محبت، بھائی چارہ اور کثرت میں وحدت کی علامت ہندوستان میں یومِ جمہوریہ کی مناسبت سے ونستھلی پورم میں مسجد قادریہ و اسلامک ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا۔ اس جلسے میں ایل بی نگر کے ایم ایل اے جناب ڈی سدھیر ریڈی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی اور اپنے خطاب میں ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور باہمی رواداری کو ہندوستان کی اصل پہچان قرار دیا۔
ایم ایل اے ڈی سدھیر ریڈی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہندوستان محبت کی سرزمین ہے جہاں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی اور دیگر مذاہب کے ماننے والے مل جل کر رہتے ہیں۔ یہی باہمی ہم آہنگی اس ملک کی سب سے بڑی طاقت اور امتیازی خصوصیت ہے۔ انہوں نے کہا کہ کثرت میں وحدت ہی ہماری شناخت ہے اور یہی جذبہ ہندوستان کو مضبوط بناتا ہے۔
اس موقع پر جناب عبدالرؤف خان، صدر اسلامک ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کی جانب سے پیش کردہ تین معروضات کو ایم ایل اے نے قبول کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی کہ وہ ونستھلی پورم جیسے کثیر آبادی والے علاقے کے لیے ان مطالبات کی تکمیل کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
مسجد قادریہ کی انتظامی کمیٹی کے صدر جناب آصف صاحب نے ایم ایل اے کا شکریہ ادا کیا اور تلگو زبان میں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب پر مؤثر خطاب کیا، جس پر ایم ایل اے نے انہیں مبارک باد پیش کی۔
جناب محمد عبدالرؤف خان، صدر سوسائٹی نے تمام معزز مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے خطبۂ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے ہندوستان کی قدیم ملی جلی تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ کس طرح مختلف مذاہب کے حکمرانوں، راجاؤں اور بادشاہوں نے مل کر ہندوستان کی تعمیر و ترقی میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے مسلم و غیر مسلم سپہ سالاروں کی مثالیں پیش کیں، جس پر ایم ایل اے نے ان کے تاریخی علم کو سراہا اور کہا کہ اس تقریر سے ان کی معلومات میں اضافہ ہوا ہے۔
جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مفتی عبدالفتاح عادل سبیلی، نائب صدر وفاق العلماء تلنگانہ نے کہا کہ محبت کی اسی مٹی کا نام ہندوستان ہے، جہاں مضبوط اور منظم جمہوری آئین نے سب کو ایک ساتھ زندگی گزارنے کا موقع دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام انسانیت، رحم اور باہمی احترام کا درس دیتا ہے اور آج کے دور میں سیکولرزم، جمہوریت اور عدم تشدد ہی ہندوستان کی بقا کا ذریعہ ہیں۔
مسجد قادریہ کے سابق خطیب مولانا مجاہد الاسلام نے ہندوستان کی تاریخ اور اس کے آئینی مقام پر تفصیلی روشنی ڈالی، جبکہ جناب مدھو گوڑ نے بھی خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ ہمیشہ جڑے رہنے کی بات کہی۔
اس پروگرام میں مسجد قادریہ و اسلامک ایجوکیشنل ویلفیئر سوسائٹی کے ذمہ داران کے علاوہ عوام کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ رسمِ پرچم کشائی انجام دی گئی اور تمام شرکاء نے مل کر قومی ترانہ پڑھا۔ حاضرین نے پروگرام کو سراہتے ہوئے منتظمین کو مبارک باد پیش کی اور ملک کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔