تلنگانہ

تلنگانہ میں 2028 کیلئے بی جے پی کی ابھی سے تیاری، امیت شاہ اور مودی کے دوروں کا منصوبہ

تلنگانہ میں 2028 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں ابھی سے تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس حکومت کے تین سال مکمل ہونے کے قریب، بی جے پی اور بی آر ایس آئندہ انتخابات کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔

حیدرآباد (منصف نیوز بیورو) تلنگانہ میں 2028 کے اسمبلی انتخابات کے پیش نظر سیاسی سرگرمیاں ابھی سے تیز ہو گئی ہیں۔ کانگریس حکومت کے تین سال مکمل ہونے کے قریب، بی جے پی اور بی آر ایس آئندہ انتخابات کے لیے اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہیں۔

بی آر ایس دوبارہ اقتدار حاصل کرنے کے لیے عوام کے درمیان اپنی سرگرمیاں بڑھا رہی ہے، جبکہ بی جے پی تلنگانہ میں اپنی تنظیم کو مضبوط بنانے اور ریاست میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔ خبر کے مطابق، بی جے پی نے 2028 کے اسمبلی انتخابات کے ساتھ ساتھ 2029 کے لوک سبھا انتخابات کو بھی پیش نظر رکھتے ہوئے تلنگانہ اور کرناٹک پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

بی جے پی قیادت کا خیال ہے کہ ریاست میں کانگریس اور بی آر ایس کے درمیان جاری سیاسی مقابلے کے دوران پارٹی کو اپنی حمایت بڑھانے کا موقع مل سکتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت گریٹر حیدرآباد کے انتخابات اور خیریت آباد اسمبلی حلقے کے ضمنی انتخاب کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ پارٹی ان انتخابات کے ذریعے اپنی تنظیمی طاقت اور عوامی رابطہ مہم کو مزید مستحکم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ نومبر میں تلنگانہ کا دورہ کریں گے۔ اس دوران ان کی توجہ پارٹی کی تنظیمی تشکیلِ نو، ریاستی قائدین کے درمیان تال میل بہتر بنانے اور انتخابات تک عوام کے ساتھ مسلسل رابطہ برقرار رکھنے کے لیے لائحہ عمل تیار کرنے پر رہے گی۔ اس کے بعد دسمبر میں وزیراعظم نریندر مودی کا دورہ بھی ہے۔

اس دورے کے دوران مختلف ترقیاتی منصوبوں کا سنگ بنیاد رکھنے اور افتتاح کرنے کے علاوہ ایک بڑے عوامی جلسے کے انعقاد کیا جایگا۔مودی کے دورے کے بعد مرکزی وزراء کے تلنگانہ میں مسلسل دوروں کا سلسلہ شروع کرنے کی بھی منصوبہ بندی کی گئی ہے، تاکہ پارٹی کی سرگرمیوں کو وسعت دی جا سکے اور عوامی رابطہ مہم کو تیز کیا جا سکے۔

بی جے پی کی حکمت عملی میں تنظیمی مضبوطی، ریاستی قائدین کے درمیان ہم آہنگی اور انتخابی تیاریوں کو اہم مقام حاصل ہے۔ تاہم، یہ حکمت عملی آئندہ انتخابات میں کس حد تک نتائج پیدا کرے گی، اس کا انحصار پارٹی کی عملی سرگرمیوں، عوامی ردعمل اور ریاست میں بدلتے سیاسی حالات پر ہوگا۔