شمال مشرق

نامعلوم خاتون کو خفیہ فوجی معلومات فراہم کرنے کے الزام میں سابق فوجی افسر گرفتار

پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ خاتون نے بابو سے دفاعی سازوسامان اور سلامتی سے متعلق امور کی معلومات حاصل کرنے کے لیے یہ بہانہ بنایا تھا کہ وہ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے

چنئی  :   تمل ناڈو کے ضلع ویلور میں ہندوستانی فوج کے ایک سابق افسر کو نامعلوم خاتون کو خفیہ فوجی معلومات فراہم کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔

یہ گرفتاری ہندوستانی بحریہ کے 31 سالہ ایک اہلکار کی گرفتاری کے فوراً بعد عمل میں آئی ہے۔ اس اہلکار پر وشاکھاپٹنم کے بحری اڈے سے متعلق حساس دفاعی اور بحری معلومات ایک پاکستانی خاتون خفیہ ایجنٹ کو فراہم کرنے کا الزام ہے۔

اطلاعات کے مطابق، ریٹائرڈ فوجی افسر بابو (52) کو تقریباً ایک سال قبل ایک خاتون نے واٹس ایپ اور ویڈیو کال کے ذریعے دوستی کرکے اپنے جال میں پھنسایا تھا۔ الزام ہے کہ خاتون نے ان سے فوجی سازوسامان اور دفاع سے متعلق دیگر معلومات حاصل کیں۔

خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر مرکزی خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے بابو کی نگرانی شروع کردی تھی اور جمعہ کے روز انہیں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا۔ ویلور تعلقہ پولیس اسٹیشن میں مرکزی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے دو روز تک تفصیلی پوچھ گچھ کے بعد ہفتہ کی رات انہیں تمل ناڈو پولیس کے حوالے کردیا گیا۔

پوچھ گچھ کے دوران انکشاف ہوا کہ خاتون نے بابو سے دفاعی سازوسامان اور سلامتی سے متعلق امور کی معلومات حاصل کرنے کے لیے یہ بہانہ بنایا تھا کہ وہ دفاعی تحقیق و ترقی کی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کے ایک منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ الزام ہے کہ بابو نے اس کی درخواست پر مطلوبہ معلومات فراہم کردیں۔ جن تفصیلات کے بارے میں انہیں خود معلومات نہیں تھیں، ان کے لیے انہوں نے مبینہ طور پر فون پر اپنے سابق ساتھیوں اور موجودہ ملازمین سے معلومات حاصل کرکے خاتون کو فراہم کردیں۔

ہندوستانی فوج کے مختلف شعبوں میں خدمات انجام دینے کے بعد بابو گزشتہ سال فوج کے سازوسامان سے متعلق شعبے میں کیپٹن کے عہدے سے ریٹائر ہوئے تھے۔ اس کے بعد وہ ضلع ویلور میں کنیامباڑی کے قریب واقع اپنے آبائی گاؤں کیجھاولم میں رہنے لگے تھے۔

بابو کو حراست میں لیے جانے کے بعد تمل ناڈو پولیس معاملے کی تفصیلی تحقیقات کررہی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ نامعلوم خاتون کون ہے اور آیا وہ کسی دوسرے ملک کی خفیہ ایجنسی کے لیے کام کررہی تھی۔

بابو کی گرفتاری کوئمبٹور میں 3 اکتوبر کو ہندوستانی بحریہ کے ایک اہلکار کی گرفتاری کے فوراً بعد عمل میں آئی ہے۔ اس معاملے میں مغربی بنگال سے تعلق رکھنے والے بحریہ کے اہلکار پردیپ مکھرجی کو ایک پاکستانی خاتون خفیہ ایجنٹ نے سوشل میڈیا پر دوستی کرکے مبینہ طور پر اپنے جال میں پھنسایا تھا۔ الزام ہے کہ اس خاتون نے ان سے وشاکھاپٹنم کے بحری اڈے پر موجود اہم بحری اثاثوں، بحری بیڑے کی نقل و حرکت اور آپریشنل نظام سے متعلق حساس معلومات حاصل کی تھیں۔

پردیپ مکھرجی کو آندھرا پردیش پولیس کے انسدادِ خفیہ کاری شعبے نے کوئمبٹور میں واقع آئی این ایس اگِرنی سے گرفتار کیا تھا، جہاں وہ انتظامی ترقی کے ایک تربیتی کورس میں حصہ لے رہے تھے۔ وہ 2014 میں ہندوستانی بحریہ میں شامل ہوئے تھے اور وشاکھاپٹنم میں مشرقی بحری کمان کے تحت تعینات تھے۔