آندھرا پردیش میں سمندری طوفان کا خطرہ بڑھ گیا، شدید طوفان میں تبدیل ہونے کا اندیشہ
مسٹر جین کے مطابق، فی الحال یہ دباؤ وشاکھاپٹنم سے 870 کلومیٹر، کاکیناڈا سے 960 کلومیٹر، مچلی پٹنم سے 1,060 کلومیٹر اور باپٹلا سے 1,130 کلومیٹر دور واقع ہے۔
وشاکھاپٹنم/وجے واڑہ : خلیج بنگال میں بننے والا کم دباؤ کا علاقہ گزشتہ تین گھنٹوں سے ایک ہی مقام پر مستحکم رہنے کے بعد اب مزید شدت اختیار کررہا ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کی بنیاد پر آندھرا پردیش اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر پرکھر جین نے اتوار کو بتایا کہ یہ موسمی نظام آج گہرے دباؤ میں تبدیل ہوجائے گا اور پیر تک سمندری طوفان کی شکل اختیار کرلے گا۔
مسٹر جین کے مطابق، فی الحال یہ دباؤ وشاکھاپٹنم سے 870 کلومیٹر، کاکیناڈا سے 960 کلومیٹر، مچلی پٹنم سے 1,060 کلومیٹر اور باپٹلا سے 1,130 کلومیٹر دور واقع ہے۔
ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ یہ موسمی نظام 27 اکتوبر تک مغربی وسطی خلیج بنگال میں ‘شدید سمندری طوفان’ اور 28 اکتوبر کی صبح تک ‘انتہائی شدید سمندری طوفان’ میں تبدیل ہوسکتا ہے۔ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ یہ طوفان 28 اکتوبر کی دوپہر تک باپٹلا اور وشاکھاپٹنم کے درمیان آندھرا پردیش کے ساحل سے ٹکرا سکتا ہے۔ ساحل سے ٹکرانے کے وقت ہوا کی رفتار 115 سے 125 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچنے کا اندیشہ ہے۔
اسٹیٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے ماہی گیروں کو سخت ہدایت دی ہے کہ وہ سمندر میں نہ جائیں، اپنی کشتیوں کو محفوظ طریقے سے باندھ کر رکھیں اور ماہی گیری کے جال محفوظ مقامات پر منتقل کردیں۔ اس کے علاوہ ساحلی علاقوں میں سمندر کی بلند لہروں کے قریب جاکر سیلفی لینے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔
ریاست کی وزیر داخلہ وی انیتا نے تمام ضلع کلکٹروں اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ اجلاس منعقد کرکے صورتِ حال کا جائزہ لیا اور احتیاطی اقدامات کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے خطرناک مقامات پر نصب ہورڈنگز ہٹانے اور ضرورت پڑنے پر نشیبی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے احکامات جاری کیے۔
امدادی اور بچاؤ کارروائیوں کے لیے قومی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (این ڈی آر ایف) اور ریاستی ڈیزاسٹر رسپانس فورس (ایس ڈی آر ایف) کی ٹیموں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
وزیر داخلہ نے سیاحوں کے ساحلوں پر داخلے پر مکمل پابندی عائد کرنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی افواہوں پر توجہ نہ دیں اور نہ ہی انہیں آگے پھیلائیں۔