کے ٹی آر کی وارننگ کے بعد ریونت حکومت حرکت میں، کلواکرتی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے پمپس شروع
تلنگانہ میں کرشنا ندی میں بھاری سیلابی پانی کے باوجود کالواکرتی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ اور پالمورو-رنگاریڈی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے پمپس ایک ہفتے سے نہ چلائے جانے پر بی آر ایس کی جانب سے شدید احتجاج کی وارننگ دی گئی۔ اس کے بعد حکومت نے کالواکرتی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت بعض پمپ ہاؤسز میں موٹرز چالو کردیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں کرشنا ندی میں بھاری سیلابی پانی کے باوجود کالواکرتی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ اور پالمورو-رنگاریڈی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے پمپس ایک ہفتے سے نہ چلائے جانے پر بی آر ایس کی جانب سے شدید احتجاج کی وارننگ دی گئی۔ اس کے بعد حکومت نے کالواکرتی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت بعض پمپ ہاؤسز میں موٹرز چالو کردیں۔
بی آر ایس قائدین نے الزام عائد کیا کہ کرشنا ندی میں پانی کی وافر مقدار موجود ہونے کے باوجود کانگریس حکومت نے لفٹ اریگیشن پروجیکٹس کے پمپس چلانے میں تاخیر کی، جس کے باعث محبوب نگر اور اطراف کے علاقوں میں عوام کو پینے کے پانی اور کسانوں کو آبپاشی کے پانی کی قلت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
سابق وزراء سنگیریڈی نرنجن ریڈی اور سبیتا اندرا ریڈی سمیت پالمورو اور رنگاریڈی اضلاع کے دیگر بی آر ایس قائدین نے حکومت کو انتباہ دیا تھا کہ اگر 11 اگست تک پمپس شروع نہیں کیے گئے تو وہ بی آر ایس کے کارگذار صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر) کی قیادت میں نرلاپور پمپ ہاؤس کی طرف مارچ کریں گے۔
بی آر ایس قائدین کے مطابق، ان کے انتباہ کے تقریباً ایک گھنٹے کے اندر آبپاشی حکام نے کالواکرتی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے تحت ایلورو، جونالابوگڈا اور گوڈی پلی پمپ ہاؤسز میں موٹرز چالو کردیں۔
تاہم، بی آر ایس قائدین نے واضح کیا کہ ان کا مطالبہ صرف کالواکرتی پروجیکٹ تک محدود نہیں ہے۔ ان کا اصرار ہے کہ پالمورو-رنگاریڈی لفٹ اریگیشن پروجیکٹ کے پمپس بھی فوری طور پر چلائے جائیں تاکہ کسانوں کو آبپاشی کا پانی فراہم کیا جاسکے۔
اس معاملے پر بی آر ایس نے کانگریس حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سوال اٹھایا کہ آیا ریاست میں حکومت کانگریس چلا رہی ہے یا بی آر ایس کے احتجاج اور انتباہات کے بعد ہی سرکاری مشینری حرکت میں آتی ہے۔
بی آر ایس قائدین نے طنزیہ انداز میں سوال کیا کہ کیا آبپاشی پروجیکٹس سے پانی صرف بی آر ایس کے مطالبے کے بعد ہی جاری کیا جائے گا؟
دریں اثنا، پالمورو-رنگاریڈی پروجیکٹ کے پمپس چلانے اور پانی کی فراہمی کے معاملے پر سیاسی کشیدگی برقرار ہے۔ کسان اور مقامی عوام اب حکومت کی جانب سے مزید اقدامات کے منتظر ہیں۔