تلنگانہ ہائی کورٹ کا حیدرآباد کمشنر رنگناتھ سمیت عہدیداروں کو دوبارہ توہینِ عدالت کے نوٹس
یہ معاملہ سالکم چیروو کے علاقے میں OUC کالج کی مبینہ غیر قانونی تعمیر سے متعلق ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ کالج کی تعمیر غیر قانونی طور پر آبی ذخیرے کی اراضی پر کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ثبوت بھی موجود ہیں۔
حیدرآباد: تلنگانہ ہائی کورٹ نے OUC کالج کی مبینہ غیر قانونی تعمیرات کے معاملے میں حیدرآباد کمشنر اے وی رنگناتھ اور میونسپل ایڈمنسٹریشن کے اسپیشل سکریٹری جیش رنجن سمیت کئی اعلیٰ عہدیداروں کو ایک بار پھر توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے ہیں۔
یہ معاملہ سالکم چیروو کے علاقے میں OUC کالج کی مبینہ غیر قانونی تعمیر سے متعلق ہے۔ درخواست گزار کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا کہ کالج کی تعمیر غیر قانونی طور پر آبی ذخیرے کی اراضی پر کی گئی ہے اور اس سلسلے میں ثبوت بھی موجود ہیں۔
درخواست میں الزام عائد کیا گیا کہ ہائی کورٹ کی جانب سے متعلقہ حکام کو کارروائی کی ہدایت دیے جانے کے باوجود عہدیداروں نے مبینہ طور پر کوئی مؤثر قدم نہیں اٹھایا۔ اسی بنیاد پر عدالت میں توہینِ عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔
درخواست کی سماعت کے دوران عدالت کو بتایا گیا کہ سابقہ عدالتی احکامات کے باوجود حکام کی جانب سے مبینہ طور پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔ معاملے کا جائزہ لینے کے بعد ہائی کورٹ نے میونسپل ایڈمنسٹریشن کے اسپیشل سکریٹری جیش رنجن، حیدرآباد کمشنر اے وی رنگناتھ کے علاوہ محکمہ تعلیم، محکمہ ریونیو اور محکمہ آبپاشی کے سینئر عہدیداروں کو توہینِ عدالت کے نوٹس جاری کیے۔
عدالت نے متعلقہ عہدیداروں سے مبینہ عدم تعمیل کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔
درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا کہ سالکم چیروو میں مبینہ غیر قانونی تعمیر کے باوجود حکام نے عدالت کی ہدایات کے مطابق کارروائی نہیں کی۔ عدالت نے معاملے کی مزید سماعت 11 اگست تک ملتوی کردی۔
اب متعلقہ عہدیداروں کو عدالت کے سامنے اپنا موقف پیش کرنا ہوگا اور یہ وضاحت دینی ہوگی کہ سابقہ عدالتی احکامات پر مبینہ طور پر عمل کیوں نہیں کیا گیا۔