مضامین

حضرت محمد ﷺ کا ثانی تو کیا سایہ بھی نہیں ہے

خدا کی قسم اسلام جیسا جدید ترین مذہب پھر کبھی نہیں آئے گا۔ کون کہتا ہے کہ اسلام ماڈرن دین نہیں ہے۔ ہماری شاندار روایات دیکھیں تو پھر ایک بار یہی کہنا پڑے گا کہ اللہ کی قسم ہم سب جدت پسندی بھول جائیں گے۔ ہمارے رسول مکرمﷺ کے دور میں عورتیں کاروبار بھی کرتی تھیں ، ہر قسم کے سوال بھی کرتی تھیں، صدقہ بھی دیتی تھیں اور مرد کی عظمت کو بھی مانتی تھیں۔

ڈاکٹر شجاعت علی صوفی آئی آئی ایس‘پی ایچ ڈی
ـCell : 9705170786

l زمانہ رسالت میں عورتیں پسند کی شادی کرتی تھیں ۔ نہ طلاق گناہ تھا اور نہ ہی بیوگی ۔
l حضور ؐ سے ہر قسم کا سوال کرتی تھیں ۔ گھر میں ملازم بھی رکھتی تھیں ۔ تجارت بھی کرتی تھیں۔
l اتنی جدت کے مذہب کو دقیانوسی کہنے والے جاہل ہی کہلائیں گے ۔
l یو این او کا امن چارٹر حضوراکرمؐ کی تعلیمات پر منحصر ۔

خدا کی قسم اسلام جیسا جدید ترین مذہب پھر کبھی نہیں آئے گا۔ کون کہتا ہے کہ اسلام ماڈرن دین نہیں ہے۔ ہماری شاندار روایات دیکھیں تو پھر ایک بار یہی کہنا پڑے گا کہ اللہ کی قسم ہم سب جدت پسندی بھول جائیں گے۔ ہمارے رسول مکرمﷺ کے دور میں عورتیں کاروبار بھی کرتی تھیں ، ہر قسم کے سوال بھی کرتی تھیں، صدقہ بھی دیتی تھیں اور مرد کی عظمت کو بھی مانتی تھیں۔پسند کی شادی کرتی تھیں، حتی کہ خود نکاح کا پیغام بھی بھیجتی تھیں۔ گھر کے کام کے لئے ملازم بھی رکھتی تھیںاور اگر کوئی مسئلہ پیش آجاتا تو فوراً نبی کریم ﷺ سے شکایت کرنے پہنچ جاتی تھیں۔

وہ دور جس میں طلاق گناہ تھا اور نہ ہی بیوگی جرم تھی۔ ایسے عظیم ترین مذہب کو آج بھی کچھ لوگ ہیں جسے دقیانوسی مذہب سمجھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے عظیم عظمتوں کے مالک نبی کریم محمد مصطفیﷺ صرف مسلمانوں کے ہی رسول نہیں ہیں بلکہ پوری انسانیت کے لئے رحمت اور امن کے شاندار علمبردار ہیں۔ آپؐ کی سیرت ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی امن طاقت کے غرور سے نہیں بلکہ عدل، رحم، معافی ، صلح اور انسانی احترام سے قائم ہوتا ہے۔ جنگ کے دوران آپ ؐ نے بسی بسائی بستیوں کو اجاڑنے سے منع کیا تھا ، لہلہاتے کھیتوں کو جلانے سے گریز کرنے کا حکم دیا تھا ۔

معصوم بچوں اور عورتوں پر ظلم نہ کرنے کی ہدایت دی تھی اور ایسی ہی کئی باتیں اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل ہوگئی ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ ؐ واقعی مسلمانوں کے نہیں بلکہ ساری انسانیت کے پیغمبر ہیں۔اسلام نے انسان کی جان، مال اور عزت کو محترم قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ آپ ﷺ نے صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام انسانوں کے ساتھ حسنِ سلوک، عدل اور رحم کا درس دیا۔ مدینہ منورہ میں آپ ﷺ نے مختلف قبائل اور مذاہب کے لوگوں کے ساتھ معاہدے اور باہمی تعاون کی بنیاد پر ایک پُرامن معاشرہ قائم کیا۔ میثاقِ مدینہ اس کی ایک اہم مثال ہے، جس میں مختلف گروہوں کے حقوق اور ذمہ داریوں کو تسلیم کیا گیا۔

صلحِ حدیبیہ بھی آپ ﷺ کی امن پسندی کی ایک عظیم مثال ہے۔ بظاہر اس معاہدے کی بعض شرائط مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوتی تھیں، لیکن آپ ﷺ نے وسیع تر امن اور مستقبل کی بھلائی کو ترجیح دی۔ اس معاہدے نے دشمنی کی شدت کم کرنے اور لوگوں کے درمیان رابطے کے مواقع پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر آپ ﷺ کے سامنے وہ لوگ موجود تھے جنہوں نے آپ ﷺ اور آپ کے ساتھیوں کو برسوں تک تکلیفیں دی تھیں۔ آپ ﷺ نے بدلہ لینے کے بجائے عام معافی کا اعلان فرمایا۔ یہ واقعہ آپ ﷺ کی رحمت، بردباری اور اعلیٰ اخلاق کی ایک بے مثال مثال ہے۔

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ’’اور ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا۔‘‘ (سورۃ الانبیاء: 107) نبی کریم ﷺ نے جنگ کے حالات میں بھی اخلاقی اصولوں کی پابندی کی تعلیم دی۔ عورتوں، بچوں اور غیر جنگجو افراد کو نقصان پہنچانے سے روکا اور ظلم و زیادتی سے منع فرمایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں جنگ بھی بے اصول تشدد کا نام نہیں بلکہ سخت اخلاقی حدود کے تابع ہے۔ آج دنیا کو جنگ، نفرت، تعصب اور تشدد کے بجائے اسی پیغامِ امن کی ضرورت ہے جو رسول اللہ ﷺ نے انسانیت کو دیا۔ اگر ہم آپ ﷺ کی سیرت سے صبر، معافی، عدل، رواداری اور باہمی احترام کا سبق حاصل کریں تو معاشرے اور دنیا میں پائیدار امن قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

بچوں سے پیار، بزرگوں کا احترام، بندوں کو سلام، عورتوں کی تعظیم حضور اکرم ﷺ کا خاصہ تھیں۔ ایک بار آپ ؐ اپنے صحابہ ؓکے ساتھ تشریف فرما تھے تو آپ سب کے سامنے سے ایک جنازہ گزرا تو آقائے دو جہاں اس کی تعظیم میں کھڑے ہوگئے۔ صحابہ ؓکو پتہ تھا کہ وہ جنازہ ایک یہودی بڑھیا کا تھا تو انہوں نے حضورؐ سے سوال کیا کہ وہ اس بڑھیا کے احترام میں کیوں کھڑے ہوگئے تو حضورؐ نے جواب میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے سوال کیا کہ کیا بزرگوں کا احترام ہم پر لازم نہیں ہے۔

یہ وہ ادا تھی جس میں آپ نے ساری دنیا کو یہ بتادیا کہ عقائد کچھ بھی ہوسکتے ہیں لیکن بزرگوں کا احترام عین اسلام ہے۔ اسی طرح ایک یہودن محسن انسانیت پر اپنے بالائی مکان سے روزانہ کچرا پھینکتی تھیں اور حضور ؐ اس کے اس عمل پر کوئی احتجاج نہیں کرتے یہ سلسلہ کچھ دن تک چلتا رہا لیکن اچانک کچرا آپ پر گرنا بند ہوگیا تو وہ اس کے گھر پر پہنچے دیکھتے کیا ہیں کہ وہ فریش ہوچکی ہے۔ یہودن گھبرا کر اُٹھ گئی او ربولی اے محمدؐ آپ میرے گھر پر۔ تو حضور ؐ نے اس سے کہا کہ ہاں میں تمہارے سامنے کھڑا ہوں کیونکہ روزانہ مجھ پر کچرا گرتا تھا لیکن آج نہیں پھینکا گیا تو مجھے تشویش ہوئی اور میں یہ دیکھنے کے لئے آگیا کہ آخر تمہیں کیا ہوا ہے۔

یہودن گھبرا کر فوراً کھڑی ہوگئی اور آپ ؐکے اخلاق سے اس قدر متاثر ہوئی کہ اسلام کے آغوش میں آجانے پر ہی اپنی عظمت سمجھی۔ کچھ فرقہ پرست عناصر یہ کہتے ہیں کہ اسلام تلوار کے زور سے پھیلا جو حقیقت سے لاکھوں میل دور ہے۔ اسلام کے پھیلنے کی وجہ حضور اکرمؐ کے اخلاق اور ان کے عمل کا پھل ہے۔ مہاتما گاندھی بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے کہ مجھے بھی اس بات کی تشویش تھی کہ کیا واقعی اسلام زور سے پھیلا لیکن جب میں نے حضرت محمد ؐ کی سیرت پڑھی تومجھے یقین ہوگیا کہ اسلام کے پھیلاؤ میں عمل ہی کا سب سے بڑا رول ہے تلوار کا نہیں۔

ایک انگریز نے Hundred Great Men of the World کے عنوان سے ایک کتاب لکھی جس میں نمبر اول پر اس نے حضورؐ کو رکھا ۔ اس عیسائی مصنف سے لوگوں نے یہ پوچھا کہ آپ ایک عیسائی ہونے کے باوجود حضرت عیسیٰ ؑکے بجائے حضرت محمدؐ کو اول درجہ دیا تو اس نے کہا کہ حضور اکرمؐ ایک مکمل انسان ہیںاور ان کے جیسا شخص مجھے پوری دنیا میں کوئی دکھائی نہیں دیتا یہی وجہ ہے کہ وہ نمبر ایک مقام پر لکھے گئے ہیں۔ بہرحال میلاد النبی ؐ کے موقع پر ہم اس روشن حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ حضرت محمد ﷺ کا ثانی تو کیا سایہ بھی نہیں ہے۔
۰۰۰٭٭٭۰۰۰