رائے دہندوں سے چیف الیکشن کمشنر کی اپیل
الیکشن کمیشن نے آج کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے پہلے 4 مراحل میں مجموعی طورپر 66.95 فیصد رائے دہی درج کی گئی۔ کمیشن نے مزید بتایا کہ 97 کروڑ رائے دہندوں کے منجملہ 45.10 کروڑ رائے دہندوں نے اب تک انتخابی مشق میں حصہ لیا ہے۔

نئی دہلی: الیکشن کمیشن نے آج کہا کہ لوک سبھا انتخابات کے پہلے 4 مراحل میں مجموعی طورپر 66.95 فیصد رائے دہی درج کی گئی۔ کمیشن نے مزید بتایا کہ 97 کروڑ رائے دہندوں کے منجملہ 45.10 کروڑ رائے دہندوں نے اب تک انتخابی مشق میں حصہ لیا ہے۔
کمیشن نے اپنے ایک بیان میں رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے مراحل میں کثیر تعداد میں ووٹ دیں۔ انتخابی حکام کے مطابق 13مئی کو منعقدہ پولنگ کے چوتھے مرحلہ میں رائے دہندوں کی تعداد 69.16 فیصد تھی جو 2019کے پارلیمانی انتخابات میں اسی مرحلہ کے مقابل 3.65 فیصدی نشانات زیادہ ہے۔
لوک سبھا کے تیسرے مرحلہ کے انتخابات میں رائے دہی کے تازہ اعدادوشمار 65.68 فیصد ہیں۔ 2019کے عام انتخابات کے تیسرے مرحلہ میں 68.4 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔
الیکشن کے دوسرے مرحلہ میں جو 26 اپریل کو منعقد ہوا تھا 66.71 فیصد رائے دہی درج کی گئی جبکہ 2019میں لوک سبھا انتخابات کے دوسرے مرحلہ میں 69.64 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔
جاریہ سال انتخابات کے پہلے مرحلہ میں 66.14 فیصد رائے دہی درج کی گئی تھی جبکہ 2019کے انتخابات کے پہلے مرحلہ میں 69.43 فیصد رائے دہی ہوئی تھی۔
الیکشن کمیشن نے بتایا کہ لوک سبھا انتخابات کے باقی 3مراحل میں رائے دہندوں کو مطلع کرنے‘ متحرک کرنے اور سہولتیں بہم پہنچانے پر زیادہ توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور چیف الیکٹورل آفیسرس سے کہا گیا ہے کہ وہ اقدامات میں اضافہ کریں۔
چیف الیکشن کمشنر راجیو کمار نے کہا کہ کمیشن کا یہ ماننا ہے کہ شراکت داری اور اشتراک رائے دہندوں کی بیداری پروگرام کے لازمی ستون ہیں۔ یہ دیکھنا باعث مسرت ہے کہ کمیشن کی درخواست پر مختلف ادارے‘ انفلوئنسرس (اثرانداز ہونے والے افراد) اور مشہور شخصیتیں ازخود اساس پر دلچسپی اور جوش و خروش کے ساتھ کام کررہے ہیں۔
23 ریاستوں اور مرکزی زیرانتظام علاقوں میں جملہ 379نشستوں پر پہلے 4 مراحل میں رائے دہی ہوئی ہے۔ راجیو کمار نے اس احساس کا اظہار کیا کہ زیادہ رائے دہی ہندوستانی رائے دہندوں کی جانب سے جمہوریت کے مضبوط ہونے کے بارے میں دنیا کے لئے ایک پیام ہوگا۔
انہوں نے رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ کثیر تعداد میں اپنے حق سے استفادہ کریں کیونکہ ووٹنگ کا دن تعطیل نہیں بلکہ جمہوریت کے تہوار میں حصہ لینے کا دن ہوتا ہے۔ کمیشن نے مختلف خانگی و سرکاری اداروں کی رائے دہندوں تک رسائی کی کوششوں کا تذکرہ کیا تاکہ انتخابات میں رائے دہندوں کی شراکت داری میں اضافہ کیا جاسکے۔