مشرق وسطیٰ

افغانستان میں پاکستانی فضائی حملوں میں تقریباً 10 شہری ہلاک

یو این مشن نے فوری کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار جھڑپوں کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

کابل :   ا فغانستان کے صوبوں کنڑ اور ہلمند میں پاکستانی فضائی حملوں میں کم از کم 10 شہری ہلاک اور نو زخمی ہوگئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یو این اے ایم اے) نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔

یو این مشن نے فوری کشیدگی میں کمی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سرحد پار جھڑپوں کا سب سے زیادہ خمیازہ عام شہریوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔

طالبان نے ابتدائی طور پر نو شہریوں کی ہلاکت اور 11 کے زخمی ہونے کی اطلاع دی تھی۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ حملوں میں رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا اور کنڑ و ہلمند میں تین مکانات تباہ ہوئے۔

پاکستان نے تاہم کہا کہ فضائی کارروائی ”منصوبہ بند اور محتاط” آپریشن کا حصہ تھی، جس میں افغانستان میں دو مقامات پر عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ پاکستانی وزارت اطلاعات کے مطابق ابتدائی اطلاعات میں کم از کم 22 عسکریت پسندوں کی ہلاکت اور اسلحہ و گولہ بارود تباہ ہونے کی اطلاع ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے تھے۔

یہ حملے اسلام آباد اور کابل کے درمیان کئی ماہ کی نسبتاً پرسکون صورتحال کے بعد بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان ہوئے ہیں۔ پاکستان طالبان حکومت پر تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت مسلح گروہوں کو افغان سرزمین سے پاکستان میں حملوں کی اجازت دینے کا الزام عائد کرتا رہا ہے، جسے طالبان مسترد کرتے ہیں۔

یو این اے ایم اے نے دونوں فریقوں پر شہریوں کے تحفظ اور بین الاقوامی انسانی قانون کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے امتیاز، تناسب اور احتیاط کے اصولوں پر عمل کرنے کی اپیل کی ہے۔