بین الاقوامی

مکہ مکرمہ پرحملہ کی کوشش”سرخ لکیر“، ایران نوازیمنی حوثی باغیوں کو سعودی عرب کی سخت وارننگ

سعودی عرب نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہو ں نے کل رات اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کی۔ خطہ کے ممالک نے فوری اس کی مذمت کی لیکن فوجی مدد کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

قاہرہ (اے پی) سعودی عرب نے یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ انہو ں نے کل رات اسلام کے مقدس ترین شہر مکہ مکرمہ پر حملے کی کوشش کی۔ خطہ کے ممالک نے فوری اس کی مذمت کی لیکن فوجی مدد کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے۔

امریکہ کے اہم حلیف ملک نے مکہ کو ”سرخ لکیر“ قرار دیا۔ سعودی عرب دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ملک ہے۔ وہ اپنے علاقائی دشمن تہران کے تائیدی باغیوں کے حملوں کی زد میں ہے۔ مملکت کو اپنا خام تیل باہر بھیجنے کے لیے محفوظ آوٹ لیٹ اور فوجی امداد کی ضرورت ہے۔ یمن کے حوثی مملکت میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنارہے ہیں۔

بحر احمر میں جہازوں کو بھی نشانہ بنایا جارہاہے۔ انہوں نے آبنائے باب المندب میں کئی جزیروں کو اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ آبنائے ہرمز میں ایران نے جہازوں کو نشانہ بنانا جاری رکھا ہے۔ تیل کے دام‘ 100 امریکی ڈالر فی بیارل سے زائد برقرار ہیں۔ حوثیوں نے مکہ مکرمکہ کی سمت ڈرون فائر کرنے کی تردید کی ہے۔

یہ شہر یمنی سرحد سے تقریباً1100 کیلو میٹر (680 میل) دور واقع ہے۔ سعودیوں کا کہناہے کہ انہوں نے پیغمبر اسلام ؐ کی جائے پیدائش کی فضائی حدود میں داخل ہونے سے قبل ایک ڈرون کو روک کر تباہ کردیا۔ یہ حملہ سعودی عرب‘ناٹو کے رکن ملک ترکی اور نیوکلیر طاقت پاکستان کے مابین طے پائے نئے دفاعی معاہدہ کی پہلی آزمائش ہے۔

ترکی اور پاکستان کے عہدیداروں نے امریکی نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا کہ سعودی عرب نے ان سے مدد کی ابھی تک کوئی درخواست نہیں کی ہے۔ پاکستانی وزیر اعظم شہباز شریف نے کہاکہ ان کا ملک اور سعودی شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ تنظیم اسلامی تعاون (او آئی سی) نے بھی تنقید کی۔ او آئی سی 57 ممالک کی تنظیم ہے۔ اس نے کہاکہ حملے کی کوشش مقامات مقدسہ کے تقدس کی خلاف ورزی ہے۔ حوثیوں نے مکہ کی طرف فائرنگ کی یہ دوسری کوشش کی۔

سال2017 میں انہوں نے مکہ کی طرف ایک بلیسٹک میزائل فائر کیاتھا۔ سعودی زیر قیادت فوجی اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے یہ بات بتائی۔ سعودی زیر قیادت فوجی اتحاد حوثیوں باغیوں سے لڑرہاہے۔ گذشتہ ہفتہ باغیوں نے کسی ثبوت کے بغیر دعوی کیاتھا کہ انہوں نے سعودی زیر قیادت اتحاد کا ایک F-15 لڑاکا طیارہ مار گرایا۔ امریکی نیوز ایجنسی اے پی اس دعوی کی آزادانہ توثیق نہیں کرسکتی۔ امریکہ نے سعودی عرب کو کئی بلین ڈالر کا اسلحہ فروخت کیا ہے۔

وہ مملکت کے تحفظ کے لیے ٹریننگ اور دیگر امداد کا پابند ہے لیکن امریکہ کے اعلی عہدیداروں نے حالیہ دنوں میں کہاہے کہ وہ جھگڑے میں پڑنا نہیں چاہتے۔ امریکی صدر ٹرمپ نے ہفتہ کے دن کہاتھاکہ حوثیوں نے ہمیں فون کیا اور کہاکہ وہ ہم سے لڑنا نہیں چاہتے۔ ایسا لگتا ہے کہ حوثیوں کی توجہ سعودیوں پر مرکوز ہے۔