قومی

چاندنی چوک کی دکانوں میں یوپی آئی پے منٹ بند

کانگریس قائد سپریہ شرینیت نے چہارشنبہ کے دن کہاکہ یہ توہونا ہی تھا۔خبر آئی ہے کہ دہلی کی چاندنی چوک مارکٹ کی بعض دکانوں نے یوپی آئی پے منٹ قبول کرنا بند کردیا ہے۔

نئی دہلی (آئی اے این ایس) کانگریس قائد سپریہ شرینیت نے چہارشنبہ کے دن کہاکہ یہ توہونا ہی تھا۔خبر آئی ہے کہ دہلی کی چاندنی چوک مارکٹ کی بعض دکانوں نے یوپی آئی پے منٹ قبول کرنا بند کردیا ہے۔

لوگ اپنی جیب سے زائد چارجس ادا کرنا نہیں چاہئیں گے۔ آئی اے این ایس سے بات چیت میں کانگریس قائد نے کہاکہ یہ تو ہونا ہی تھا‘ یہ تو ہوگا ہی‘کیونکہ لوگ اپنی جیب سے زائد پیسہ دینے والے نہیں۔

آج یہ چاندنی چوک میں ہواہے‘ کل سارے دہلی میں ہوگااور آخر میں سارے ملک میں ہوگا۔ یوپی آئی معاملتوں پر اگر زائد چارجس لئے گئے تو گاہک کیش پے منٹس کرناچاہیں گے۔ مسئلہ یہ ہے کہ نوٹ بندی کے وقت ملک میں 17لاکھ کروڑ روپیوں کی نقدی تھی۔

آج یہ رقم بڑھ کر 40 کروڑ روپیوں سے زائد ہوچکی ہے۔ ڈھائی گنا سے زیادہ یہ اضافہ ہے۔ کانگریس قائد نے حکومت کی نیت اور پالیسیوں پر سوال اٹھایا اور الزام عائد کیا کہ حکومت کے فیصلوں پر امریکی کمپنیوں کااثر دکھائی دیتا ہے۔

انہوں نے کہاکہ حکومت کی نیت اور پالیسی ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ اسے خود معلوم نہیں کہ وہ کیا کررہی ہے۔ وہ امریکی کمپنیوں کو فائدہ پہنچانے کے لیے ایسا کررہی ہے۔ وہ امریکی کمپنیوں کے دباؤ میں کام کررہی ہے۔