بین الاقوامی

ایران، امریکہ کے ساتھ جنگ جاری رکھنا نہیں چاہتا: وزیر خارجہ عباس عراقچی

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چہارشنبہ کے دن کہاکہ تہران کو امریکہ کے ساتھ جنگ جاری رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ سفارتی حل چاہتا ہے۔

بیجنگ (پی ٹی آئی) ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چہارشنبہ کے دن کہاکہ تہران کو امریکہ کے ساتھ جنگ جاری رکھنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ سفارتی حل چاہتا ہے۔ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای سے بات چیت کی۔ انہوں نے مغربی ایشیاء کی تازہ صورتحال سے انہیں واقف کروایا۔

ان کا دورہ بیجنگ ایسے وقت ہورہاہے جب مغربی ایشاء میں امن کے حوثی باغیوں کی فوجی پیشرفت کی وجہ سے دشمنی بڑھ گئی ہے۔ حوثی پہلے انصار اللہ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ایران نواز یمنی سیاسی اور مسلح تحریک نے سعودی عرب پر حملے تیز کردیئے ہیں۔ اس نے بحر احمر میں باب المندب پر کنٹرول حاصل کرلیاہے۔

ایران اور امریکہ کی جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز میں پہلے ہی جہازوں اور آئیل ٹینکرس کی آمد و رفت محدود ہوچکی ہے۔ توانائی کا بڑ ا بحران پیدا ہواہے۔ عراقچی حال میں برکس چوٹی کانفرنس میں شرکت کے لیے ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ نئی دہلی میں تھے۔ 2024 سے یہ ان کا پانچواں دورہ چین ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ تہران او ربیجنگ کے قریبی تعلقات ہیں۔

دوران ملاقات وانگ نے کہاکہ ایران اور امریکہ دونوں کو اسلام آباد معاہدہ کی طرف لوٹ جاناچاہئے۔ ٹکراؤ طویل عرصہ تک جاری رہنا دونوں ممالک اور بین الاقوامی برادری کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ چین چاہتا ہے کہ ایران اور امریکہ معقول رویہ اختیار کریں اور تحمل برتیں۔ وہ جلد سے جلد امن معاہدہ کی طرف لوٹ جائیں۔

عراقچی نے وانگ کو مغربی ایشیاء او رخلیج کی تازہ صورتحال سے واقف کروایا اور کہاکہ ایران کو جنگ جاری رکھنے سے کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ وہ سفارتی چینلس کی واپسی کے لیے تیار ہے۔ چین‘اقوام متحدہ سلامتی کونسل کا رکن ہے۔

وانگ نے ایران سے کہاکہ وہ خلیجی ممالک سے بات چیت کرے۔ وہ ان کی علاقائی سالمیت اور قومی سلامتی کا احترام کرے۔عراقچی نے جواب میں کہاکہ ایران اچھے ہمسایہ تعلقات کے لیے خطہ کے ممالک سے بات چیت کے لیے تیار ہے۔