امریکی ایوان نمائندگان میں جنگی اختیارات کی قرارداد منظور
امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کو جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرارداد منظور کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری دشمنانہ کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
واشنگٹن: امریکی ایوان نمائندگان نے منگل کو جنگی اختیارات سے متعلق ایک قرارداد منظور کی، جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری دشمنانہ کارروائیوں سے امریکی افواج کو واپس بلانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
یہ کانگریس کی جانب سے ایران کے ساتھ تنازع میں انتظامیہ کی فوجی کارروائیوں کو محدود کرنے کی تیسری کوشش ہے۔ڈیموکریٹک رکنِ ایوان سیٹھ مولٹن کی پیش کردہ قرارداد 220-204 ووٹوں سے منظور ہوئی۔ اس کے حق میں 213 ڈیموکریٹس اور سات ریپبلکن ارکان نے ووٹ دیا، جبکہ ایک آزاد رکن نے مخالفت کی۔
قرارداد H. Con. Res. 93 میں جنگی اختیارات کی قرارداد کا حوالہ دیتے ہوئے ٹرمپ سے ایران کے ساتھ جاری دشمنانہ کارروائیوں سے امریکی افواج واپس بلانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ کانگریسی دستاویزات کے مطابق قرارداد صدر کو امریکی یا اتحادی اہلکاروں اور تنصیبات کے دفاع کے لیے ضروری افواج واپس بلانے کا پابند نہیں کرتی۔
قرارداد کی حمایت کرنے والے سات ریپبلکن ارکان میں کینٹکی کے تھامس میسی، پنسلوانیا کے برائن فٹزپیٹرک، اوہائیو کے وارن ڈیوڈسن، مشی گن کے ٹام بیریٹ، آئیووا کی ماریانیٹ ملر-میکس، آئیووا کے زیک نَن اور جنوبی کیرولائنا کی نینسی میس شامل ہیں۔ووٹنگ کے ساتھ ہی ایران تنازع سے متعلق اسی نوعیت کی جنگی اختیارات کی قرارداد ایوان نمائندگان سے منظور ہونے کی تعداد تین ہوگئی ہے۔
تاہم سابقہ قراردادوں کے نتیجے میں امریکی افواج کی واپسی عمل میں نہیں آئی۔مولٹن نے کہا کہ قرارداد کا مقصد جنگ شروع کرنے سے متعلق فیصلوں میں کانگریس کے آئینی اختیار کی دوبارہ توثیق کرنا ہے۔ ووٹنگ کے بعد ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ انتظامیہ کی جانب سے فوجی کامیابی کے سابقہ دعوؤں کے باوجود تنازع جاری ہے اور انہوں نے امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں اور فوجی کارروائی کے مالی اخراجات کا حوالہ دیا۔
کانگریشنل بجٹ آفس نے منگل کو اندازہ لگایا کہ امریکہ یکم اگست تک اس تنازع پر تقریباً 38 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے۔ ادارے کے مطابق اگر لڑائی حالیہ سطح پر جاری رہی تو جنگ پر مزید 2 سے 3 ارب ڈالر ماہانہ خرچ ہو سکتے ہیں۔یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی ہے جب کانگریس ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں کرنے کے لیے انتظامیہ کے اختیار پر بحث جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ اس کے لیے کانگریس کی جانب سے مخصوص اجازت حاصل نہیں کی گئی۔
ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی کارروائیوں کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایران سے لاحق خطرات سے نمٹنے کے لیے فوجی مہم ضروری ہے۔ایوان کی قرارداد پر سینیٹ کی جانب سے آئندہ کارروائی ابھی غیر یقینی ہے۔ جولائی میں ایوان نمائندگان سے منظور ہونے والی اسی نوعیت کی ایک قرارداد بھی سینیٹ میں آگے نہیں بڑھ سکی ہے۔
ایوان نمائندگان کی تازہ کارروائی ایک روز بعد سامنے آئی ہے جب ریپبلکن رکن تھامس میسی نے وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے خلاف مواخذے کی دفعات پیش کیں۔ انہوں نے وزیر دفاع پر الزام عائد کیا کہ وہ کانگریس کی اجازت کے بغیر ایران میں فوجی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ہیگستھ اور پینٹاگون نے انتظامیہ کی کارروائیوں کا دفاع کیا ہے۔