حیدرآباد

ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس کے ملزم روڈی شیٹر کو ضمانت، اویسی کے سنگین الزامات

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس کے ایک ملزم روڈی شیٹر کی ضمانت پر رہائی کے معاملے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

حیدرآباد: آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے ایڈوکیٹ خواجہ معین الدین قتل کیس کے ایک ملزم روڈی شیٹر کی ضمانت پر رہائی کے معاملے پر سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

اسد الدین اویسی نے الزام لگایا کہ حال ہی میں جیل سے رہا ہونے والے روڈی شیٹر کو جیل سپرنٹنڈنٹ کی جانب سے مبینہ طور پر مدد فراہم کی گئی اور اس نے 2 کروڑ روپے رشوت دے کر ضمانت حاصل کی۔

اویسی نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ ملزم جیل سے باہر آنے کے بعد مزید حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور جیل سپرنٹنڈنٹ مبینہ طور پر اس کی مدد کر رہا ہے۔ انہوں نے معاملے کی سنگینی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اویسی نے کہا کہ بے قصور لوگوں کے قتل اور ان پر حملوں میں ملوث افراد کی سماج میں حوصلہ افزائی نہیں ہونی چاہیے اور ایسے عناصر کا سماجی بائیکاٹ کیا جانا چاہیے۔

تاہم، 2 کروڑ روپے کی مبینہ رشوت اور جیل سپرنٹنڈنٹ کے ملوث ہونے سے متعلق الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔ دستیاب معلومات میں جیل حکام یا متعلقہ ملزم کا موقف شامل نہیں ہے۔

ملزم کو ضمانت دیے جانے کے حالات اور رشوت کے الزامات نے معاملے میں مزید سوالات پیدا کردیے ہیں۔ حکام کی جانب سے مزید تحقیقات اور وضاحت کا انتظار ہے۔