حیدرآباد

حیدرآباد میں مذہبی جلوسوں کے دوران ڈی جے سسٹم اور آتش بازی پر امتناع

حیدرآباد کمشنرپولیس نے سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں ڈی جے سسٹم کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔

حیدرآباد: حیدرآباد کمشنریٹ کی حدود میں مذہبی جلوسوں کے دوران ڈی جے ساؤنڈ سسٹم، مختلف آلات اور آتش بازی کے استعمال پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ حیدرآباد سٹی پولیس کمشنر سی وی آنند کی جانب سے حال ہی میں عوامی رائے کے پیش نظر یہ فیصلہ لیا گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
حیدر آباد میں ایک ماہ تک امتناعی احکام نافذ
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز

چند روز قبل حیدرآباد کمشنرپولیس نے سیاسی جماعتوں کے قائدین اور مختلف محکموں کے اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ ایک مشاورتی اجلاس منعقد کیا تھا جس میں ڈی جے سسٹم کے استعمال کو روکنے پر اتفاق کیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ ڈی جے کی تیز آواز کی وجہ سے بزرگوں اور مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ طلبہ کی امتحانات کی تیاری میں بھی خلل واقع ہو رہا ہے۔

اجلاس میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں نے بھی جلوسوں میں ڈی جے سسٹم اور آتشبازی پر پابندی عائد کرنے کی حمایت کی تھی، جس کے بعد حیدرآباد سٹی پولیس نے باضابطہ طور پر ان احکامات کا اعلان کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد سماجی سطح پر پیدا ہونے والی صوتی آلودگی کو کم کرنا اور شہریوں کو پرسکون ماحول فراہم کرنا ہے۔