حیدرآباد

بھٹی وکرامارکا کے ٹی آر کے خلاف دیئے گئے ریمارکس پر معافی مانگیں، بی آر ایس کا ایوان میں احتجاج

احتجاج کے دوران بی آر ایس کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی کے داخلی دروازے پر دھرنا دیا اور نعرے لگائے – "نہیں چاہیے بابو، 20 فیصد کمیشن کی حکومت!"۔

حیدرآباد: بی آر ایس کے اراکین اسمبلی نے ایوان میں شدید احتجاج کیا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا، بی آر ایس کے ورکنگ صدر کے ٹی آر کے خلاف دیے گئے ریمارکس پر معافی مانگیں۔ اس مطالبے کے ساتھ بی آر ایس اراکین اسمبلی میں نعرے بازی کرتے رہے۔

متعلقہ خبریں
کونڈاپور میں بی آر ایس رکن اسمبلی کے مکان کے باہر کشیدگی
جو کچھ تھا، ٹریلر تھا، عوام کو ابھی بہت دیکھنا باقی ہے: کے ٹی آر
حکومت، موسیٰ ریور پروجیکٹ کیلئے پُرعزم: بھٹی وکرمارکہ
جنت البقیع کی تعمیر نو کیلئے عالمی سطح پر احتجاج، حیدرآباد کے اندرا پارک پر دھرنا کا اعلان
تلنگانہ کے حقوق پر کوئی سمجھوتہ نہیں! کے ٹی راما راؤ کا سخت موقف

چہارشنبہ کی صبح اسمبلی اجلاس کے دوران کے ٹی آر نے سکریٹریٹ میں کمیشن کے معاملات اور کنٹریکٹرز کے دھرنے کا ذکر کیا۔ اس پر ردعمل دیتے ہوئے بھٹی وکرمارکا نے کہا کہ "زبان سنبھال کر بات کریں”۔ ان کے اس تبصرے پر بی آر ایس اراکین نے اعتراض کیا اور کہا کہ یہ نازیبا الفاظ ہیں، جس پر بھٹی وکرمارکا کو معذرت کرنی چاہیے۔

احتجاج کے دوران بی آر ایس کے اراکین اسمبلی نے اسمبلی کے داخلی دروازے پر دھرنا دیا اور نعرے لگائے – "نہیں چاہیے بابو، 20 فیصد کمیشن کی حکومت!”۔

 انہوں نے کانگریس حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ "کمیشن کی حکومت” ہے، جو 20 فیصد، 30 فیصد کمیشن کے اصول پر چل رہی ہے۔ بی آر ایس ایم ایل ایز نے کانگریس حکومت کو بدعنوان قرار دیتے ہوئے اس پر سخت تنقید کی۔