دہلیسوشیل میڈیا

سپریم کورٹ مسلم خاتون کی جائیداد میں مساوی حصہ داری کی درخواست پر سماعت کرے گی

سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک مسلم خاتون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرنے سے اتفاق کیا، جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ شرعی قانون میں عورت کو مرد کے مقابلہ میں برابر حصہ نہ دینے کی حد تک امتیازی اور آئین کے تحت فراہم کردہ حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

نئی دہلی: سپریم کورٹ نے جمعہ کے روز ایک مسلم خاتون کی جانب سے دائر کی گئی درخواست کی سماعت کرنے سے اتفاق کیا، جس نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ شرعی قانون میں عورت کو مرد کے مقابلہ میں برابر حصہ نہ دینے کی حد تک امتیازی اور آئین کے تحت فراہم کردہ حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

متعلقہ خبریں
مسلمان شخص کی ہوٹل میں بین الاقوامی معیار کی صفائی، سپریم کورٹ میں مقدمہ کے دوران انکشاف
نیٹ یوجی تنازعہ، این ٹی اے کی تازہ درخواستوں پر کل سماعت
مسلم خواتین کے لئے نان و نفقہ سے متعلق سپریم کورٹ کا فیصلہ قابل ستائش: نائب صدر جمہوریہ
نیٹ یوجی کونسلنگ ملتوی
سپریم کورٹ نے مقدمے کی سماعت میں 4 سال کی تاخیر پر این آئی اے کی سرزنش کی

جسٹس کرشنا مراری اور جسٹس سنجے کرول پر مشتمل بنچ کیرالا ہائی کورٹ کے 6 جنوری کے حکم نامہ کے خلاف اپیل کی سماعت کررہی تھی، جو بشریٰ علی کی جانب سے داخل کی گئی تھی۔ جنہوں نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ ان کی شکایت یہ ہے کہ بیٹی ہونے کے ناطے شرعی قانون کے مطابق انہیں اپنے مرد منصبوں کے مقابل صرف آدھا حصہ دیا گیا ہے۔

بنچ نے درخواست گزار کے 11 بھائی بہنوں کو نوٹس جاری کی، جن میں 4 بہنیں شامل ہیں۔ ایڈوکیٹ بیجو میتھیو جوائے کے ذریعہ دائر کی گئی درخواست میں مزید کہا گیا کہ بشریٰ بٹوارہ کے مقدمہ میں ڈکری ہولڈر ہے، جس کے تحت 19 جنوری 1995ء کے ابتدائی حکم نامہ کے مطابق انھیں 1.44 ایکڑ پر مشتمل شیڈول جائیداد کا 7/152 حصہ دیا گیا۔

جوائے نے کہا کہ سپریم کورٹ نے جوں کا توں موقف برقرار رکھنے کا بھی حکم دیا ہے۔ بشریٰ کی جانب سے داخل کی گئی درخواست میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار ٹرائیل عدالت کے ذریعہ منظور کیے گئے حتمی حکم نامہ سے ناراض ہے، جس میں درخواست گزار کو صرف 4.82 سینٹ جائیداد الاٹ کی گئی تھی، جس پر ایڈوکیٹ کمشنر کے پلان کے پلاٹ D کا نشان لگایا گیا تھا۔

بشریٰ نے کہا کہ اس کے والد نے پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ 7 لڑکے اور 5 لڑکیاں چھوڑی ہیں۔ اس نے اپنی درخواست میں کہا اس کی شکایت یہ ہے کہ آئین کی ضمانت کے با وجود مسلم خواتین کو امتیازی سلوک کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ 19 جنوری 1995ء کے ابتدائی حکم نامہ کو چیلنج نہیں کیا گیا تھا اور وہ حتمی ہوگیا تھا۔ درخواست گزار نے کہا کہ یہ عرض کرنا کہ شریعت کے قانون کے مطابق جائیداد کی تقسیم امتیازی ہے اور اس کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔

مسلم پرسنل لا (شریعت) اپلی کیشن ایکٹ 1937 کی دفعہ 2 اس حد تک کہ عورت کو برابر کا حصہ نہ دیا جائے، دستور کی دفعہ 15 کے مغائر ہے اور اسی لیے دستور کی دفعہ 13 کے تحت کالعدم ہے۔ درخواست میں کہا گیا گیا کہ اسی طرح کا ایک اور معاملہ عدالت میں زیر غور ہے۔

تین طلاق کیس میں 2017ء کے فیصلہ کا حوالہ دیتے ہوئے اس نے کہا کہ 1937 کا ایکٹ ماقبل دستور قانون سازی ہے، جو براہِ راست دستور کی دفعہ 13 (1) کے مطابق ”اس آئین کے شروع ہونے سے فوری پہلے ہندوستان کی سرزمین پر نافذ تمام قوانین جہاں تک وہ اس حصہ کی دفعات سے متصادم ہیں، اسی طرح کی عدم مطابقت کی حد تک کالعدم ہوجائیں گے“۔

بشریٰ نے کہا کہ انہوں نے ایڈوکیٹ کمشنر کی رپورٹ اور پلان مؤرخہ 2022ء کے خلاف ٹرائیل عدالت کے سامنے اعتراضات اٹھائے، لیکن انہیں خارج کردیا گیا اور ایڈوکیٹ کمشنر کے پلان کو قبول کرلیا گیا اور اس کی بنیاد پر درخواست گزار کو 4.82 سینٹس کی جائیداد الاٹ کردی گئی۔

a3w
a3w