حیدرآباد

مسلمانوں کیلئے 10فیصد ریزرویشن بی جے پی کبھی قبول نہیں کرے گی: رام چندر راؤ کا بیان

انہوں نے کہا کہ بی جے پی پوری ریاست میں اپنی بنیاد کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔ریونتھ ریڈی حکومت کو مزید نشانہ بناتے ہوئے، ریاستی بی جے پی سربراہ نے پوچھا کہ انہوں نے پچھلے 19 مہینوں کے دوران بی سی کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کیا؟۔

حیدرآباد: تلنگانہ بی جے پی کے صدر این رام چندر راؤ، جو ریاست کے ”گھر گھر بی جے پی” کے دورے پر ہیں، نے کانگریس پر الزام لگایا کہ وہ بی سی برادریوں کو دھوکہ دینے کے لیے ”دھوکہ دہی کے حربے” استعمال کر رہی ہے۔ وہ پیڈا پلی میں خطاب کررہے تھے۔

متعلقہ خبریں
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
وارث سرکاروطن ؒ مولانا پیر نقشبندی سے ڈاکٹر ذاکر شاہ افتخاری کی 25رکنی وفد کے ہمراہ روحانی ملاقات
اے پی سی آر تلنگانہ (APCR) کا ریاست گیر پیرالیگل ایکٹوسٹ و کارکنان کے لئے تربیتی پروگرام کا کامیاب اختتام
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

رامچندر راؤ نے کہا کہ بی جے پی نے تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں کانگریس حکومت کی طرف سے پیش کردہ 42 فیصدریزرویشن بل کی غیر مشروط طور پر حمایت کی تھی، لیکن اب، کانگریس پارٹی مسلمانوں کو 42فیصد میں سے 10 فیصدریزرویشن دینے کی کوشش کر رہی ہے، جسے بی جے پی قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے کہا کہ ”بی جے پی نے ہمیشہ مذہب کی بنیاد پر ریزرویشن کی مخالفت کی ہے۔

” انہوں نے مزید کہا کہ اگر 10 فیصدمسلمانوں کو جاتا ہے تو ”اصل بی سی اپنے حقوق سے محروم ہو جائیں گے اور انہیں صرف 32فیصد ریزرویشن ملے گا۔”انہوں نے یہ بھی کہا کہ تلنگانہ کے لوگ اب بی آر ایس کے ”بدعنوان حکمرانی” اور کانگریس کے ”عوام دشمن طرز حکمرانی” کے تجربے کی وجہ سے بی جے پی کو موقع دینا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی پوری ریاست میں اپنی بنیاد کو مسلسل بڑھا رہی ہے۔ریونتھ ریڈی حکومت کو مزید نشانہ بناتے ہوئے، ریاستی بی جے پی سربراہ نے پوچھا کہ انہوں نے پچھلے 19 مہینوں کے دوران بی سی کی فلاح و بہبود کے لیے کیا کیا؟۔

راؤ نے چیف منسٹر ریڈی پر جنتر منتر پر احتجاج منظم کرکے دہلی میں ڈرامہ رچانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ریونت ریڈی کی حکومت بی سی کو 42فیصد ریزرویشن دینے میں ناکام ہو رہی ہے اور اس ناکامی کا سہرا مرکزی حکومت پر ڈالنا چاہتی ہے۔