مذہب

کالی پوت کا لچھا

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے (ابو داؤد، حدیث نمبر ۴۰۳۱) اس لئے مسلمان خواتین کا منگل سوتر یا کالی پوت کا لچھا استعمال کرنا اور اس کو شوہر کے زندہ ہونے کی علامت باور کرنا درست نہیں۔

سوال:- مسلمان خواتین گلے میں موتی کاہار پہنتی ہیں، جسے کالی پوت کا لچھا کہتی ہیں،، اسی ہار کو ہندو عورتیں منگل سوتر کہتی ہیں، دونوں مذاہب کی خواتین کا عقیدہ ہے کہ ہر شادی شدہ خاتون کے گلے میں یہ ہار ہونا لازمی ہے،

اگر کوئی مسلمان شادی شدہ خاتون اسے نہ پہنے، تو اسے بیوہ سمجھا جاتا ہے، اسلام میں اس منگل سوتر کی کیا حیثیت ہے؟ (محمد حنظله،بوره بنڈه )

جواب:- یہ عقیدہ کہ شادی شدہ خواتین کے گلے میں مخصوص قسم کا ہار ہواور بیوہ خواتین اسے نہ پہنیں، قطعاً نا درست ہے، اسلامی نقطۂ نظر سے شادی شدہ اور بیوہ خواتین کے درمیان زینت و آرائش کا فرق صرف عدت وفات میں ہے کہ شوہر کی وفات کے بعد حاملہ عورت ولادت تک اور غیر حاملہ عورتیں چار ماہ اور دس روز تک سوگ کریں گی،

اور زیبائش و آرائش سے بچیں گی، باقی کالی پوت کے استعمال کرنے اور نہ کرنے کا بیوی اور بیوہ ہونے سے کوئی تعلق نہیں، یہ ہندوانہ رسم ہے، مسلمانوں کو اس بات سے منع کیاگیا ہے کہ وہ کسی دوسری قوم کی مشابہت اختیار کریں،

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی وہ انہیں میں سے ہے (ابو داؤد، حدیث نمبر ۴۰۳۱) اس لئے مسلمان خواتین کا منگل سوتر یا کالی پوت کا لچھا استعمال کرنا اور اس کو شوہر کے زندہ ہونے کی علامت باور کرنا درست نہیں۔