بی آر ایس ایم ایل ایز انحراف معاملہ، تلنگانہ اسمبلی اسپیکر کو سپریم کورٹ کا تازہ نوٹس
سپریم کورٹ آف انڈیا نے بی آر ایس کے ارکانِ اسمبلی کے انحراف معاملہ میں تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد کمار کو ایک مرتبہ پھر نوٹس جاری کیا ہے۔
سپریم کورٹ آف انڈیا نے بی آر ایس کے ارکانِ اسمبلی کے انحراف معاملہ میں تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد کمار کو ایک مرتبہ پھر نوٹس جاری کیا ہے۔ اس معاملہ نے ریاست میں سیاسی و قانونی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے، جب کہ آئندہ سماعت کی تاریخ 6 فروری مقرر کی گئی ہے۔
یہ کارروائی تلنگانہ بی جے پی کی جانب سے دائر درخواست پر عمل میں آئی، جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ عدالتِ عظمیٰ کے سابقہ احکامات کے باوجود ارکانِ اسمبلی کی نااہلی سے متعلق فیصلے مقررہ مدت میں نہیں کیے گئے۔ جسٹس سنجے کرول کی قیادت میں بنچ نے درخواست پر سماعت کرتے ہوئے اسپیکر سے جواب طلب کیا۔
درخواست گزار الیٹی مہیشوری ریڈی نے اسپیکر کے خلاف توہینِ عدالت کی کارروائی کی بھی استدعا کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ عدالت کے اس حکم پر عمل نہیں ہوا جس کے تحت تین ماہ کے اندر انحراف سے متعلق فیصلے کیے جانے تھے۔
درخواست میں خيرات آباد کے رکنِ اسمبلی دانم ناگیندر کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں انہوں نے پارٹی بدلنے کے باوجود کانگریس میں برقرار رہنے کا عندیہ دیا تھا۔ بی جے پی کے مطابق یہ امر کارروائی میں تاخیر اور عدمِ عملداری کی نشاندہی کرتا ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ گزشتہ برس نومبر میں بھی عدالتِ عظمیٰ نے اسی معاملہ میں اسپیکر کو توہینِ عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا۔ اب بی جے پی کی تازہ درخواست کو بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ کی پہلے سے زیرِ سماعت درخواست کے ساتھ منسلک کر دیا گیا ہے، جس کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سیاسی مرکزِ نگاہ بن گیا ہے۔
عدالت کے اس تازہ نوٹس سے توقع کی جا رہی ہے کہ آئندہ سماعت میں انحراف معاملہ پر واضح پیش رفت ہوگی، جو آنے والے دنوں میں تلنگانہ کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔