تلنگانہ

سنگاریڈی ضلع میں غریبوں کی جھونپڑیوں پر بلڈوزر، سابق رکن اسمبلی بھوپال ریڈی کا احتجاج

الزام ہے کہ یہ زمین سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں غریب افراد کو پٹہ کے طور پر الاٹ کی گئی تھی۔ پٹہ حاصل کرنے کے بعد غریب خاندانوں نے وہاں جھونپڑیاں تعمیر کرکے چھوٹے کاروبار شروع کیے تھے اور انہی کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے تھے۔

سنگاریڈی: تلنگانہ کے سنگاریڈی ضلع کے منورو منڈل کے بلّاپور گاؤں میں غریب افراد کی جانب سے قائم کی گئی جھونپڑیوں کو مبینہ طور پر حکام نے بلڈوزر کے ذریعے منہدم کردیا، جس کے بعد مقامی لوگوں میں شدید ناراضگی پھیل گئی۔

الزام ہے کہ یہ زمین سابقہ بی آر ایس حکومت کے دور میں غریب افراد کو پٹہ کے طور پر الاٹ کی گئی تھی۔ پٹہ حاصل کرنے کے بعد غریب خاندانوں نے وہاں جھونپڑیاں تعمیر کرکے چھوٹے کاروبار شروع کیے تھے اور انہی کے ذریعے اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے تھے۔

متاثرین کا کہنا ہے کہ حکام نے مبینہ طور پر بغیر کسی پیشگی نوٹس یا واضح وجہ بتائے رات کے وقت بلڈوزر چلا کر ان کی جھونپڑیاں منہدم کردیں، جس کے باعث کئی غریب خاندانوں کے روزگار کا ذریعہ بھی متاثر ہوا ہے۔

سابق رکن اسمبلی بھوپال ریڈی نے بلّاپور گاؤں پہنچ کر متاثرہ افراد سے ملاقات کی اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ انہوں نے مبینہ انہدام کے خلاف سڑک پر بیٹھ کر دھرنا دیا اور بعد ازاں بھوک ہڑتال بھی شروع کردی۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ یہ کارروائی مقامی کانگریس رکن اسمبلی سنجیو ریڈی کی حمایت سے کی گئی۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ معاملے میں فوری مداخلت کی جائے، غریب خاندانوں کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور ان کے گھروں اور روزگار کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے۔

متاثرہ افراد اور احتجاج کرنے والوں کی جانب سے لگائے گئے الزامات پر متعلقہ حکام کی جانب سے باضابطہ ردعمل سامنے آنا ابھی باقی ہے۔