تلنگانہ

ریپسٹ کے والد کو مرکزی وزیر بننے کا کوئی حق نہیں، دھرمیندر پردھان اور مودی کے استعفے کا مطالبہ

تلنگانہ کے نوجوانوں نے الزام عائد کیا کہ اگر دھرمیندر پردھان میں ذرا بھی شرم اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی تو انہیں اسی وقت استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے مرکزی وزراء جی کشن ریڈی اور بندی سنجے کمار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔

حیدرآباد: تلنگانہ کے نوجوانوں نے امتحانی بے ضابطگیوں اور طلبہ کے احتجاج کے معاملے پر مرکزی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اور وزیر اعظم نریندر مودی سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔

تلنگانہ کے نوجوانوں نے الزام عائد کیا کہ اگر دھرمیندر پردھان میں ذرا بھی شرم اور اخلاقی ذمہ داری ہوتی تو انہیں اسی وقت استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔ انہوں نے مرکزی وزراء جی کشن ریڈی اور بندی سنجے کمار کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے بارے میں بات کرنا وقت کا ضیاع ہے۔

نوجوانوں نے کہا کہ طلبہ نے صرف پرامن انداز میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا تھا، جبکہ ان کے مطابق پولیس نے حالات کو خراب کیا اور تشدد کی صورتحال پیدا ہوئی۔

انہوں نے صرف مرکزی وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی سے بھی استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امتحانی نظام سے متعلق مسائل کی ذمہ داری اعلیٰ سطح پر بھی طے ہونی چاہیے۔

بین الاقوامی فنڈنگ کے الزامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے تلنگانہ کے نوجوانوں نے سوال کیا کہ اگر واقعی بیرون ملک سے فنڈنگ آ رہی ہے تو مرکزی حکومت کو اس کی معلومات ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس اس حوالے سے کوئی ثبوت ہے تو ذمہ دار افراد کو گرفتار کرکے کارروائی کی جانی چاہیے۔

نوجوانوں کے یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امتحانات سے متعلق تنازعات کے خلاف طلبہ کے احتجاج جاری ہیں اور مظاہرین امتحانی نظام میں شفافیت، جوابدہی اور اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔