اقلیتوں سے وعدے پورے کرنے میں کانگریس حکومت ناکام: ہریش راؤ
ٹی ہریش راؤ نے اپنے خطاب کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں کو نظر انداز کئے جانے اور ان سے کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے 4000 کروڑ کے بجٹ کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک بحث کی تخصیص محمل میں نہیں لائی گئی بلکہ بی آرایس نے جو بجٹ خرچ کیا تھا اس سے بھی کم بجٹ خرچ کیا گیا ہے۔
حیدرآباد: کانگریس حکومت ریاست میں اقلیتوں کی ترقی کے سلسلہ میں کئے گئے وعدوں میں ناکام ہو چکی ہے اور انتخابات سے قبل جاری کئے گئے اقلیتی اعلامیہ پر عمل آوری کے بجائے ٹال مٹول کے ذریعہ مسلمانوں اور اقلیتوں کو دھوکہ دیا جا رہا ہے۔
سابق ریاستی وزیروڈ پٹی فلور لیڈر بھارت را شٹر سمیتی مسٹر ٹی ہریش راؤ نے تجویل اسدی پیٹ میں منعقدہ مسلم پھر توڑنے والے تر کا کاشا” طبقہ سے تعلق رکھنے والوں میں مشینوں کی تقسیم کی تقریب سے خطاب کے دوران یہ بات کہی ۔
ٹی ہریش راؤ نے اپنے خطاب کے دوران ریاستی حکومت کی جانب سے اقلیتوں کو نظر انداز کئے جانے اور ان سے کئے گئے وعدوں پر عدم عمل آوری کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے 4000 کروڑ کے بجٹ کی فراہمی کا وعدہ کیا تھا لیکن اب تک بحث کی تخصیص محمل میں نہیں لائی گئی بلکہ بی آرایس نے جو بجٹ خرچ کیا تھا اس سے بھی کم بجٹ خرچ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ریاستی حکومت کے محلہ فینانس کے اعداد و شمار اور اقلیتوں کے لئے جاری کئے گئے بجٹ کے متعلق وہ اچھی طرحجانتے ہیں کیونکہ وہ تلنگانہ میں فینانس منسٹر کی حیشیما سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بی آرایس نے اپنے دور حکومت میں چیف منسر اور سیز اسکار ٹپس کے لئے 1550 کروڑ روپے خرچ کئے جبکہ موجودہ ریاستی حکومت اب تک 1800 کروڑ روپے بجٹ محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے جاری کرنے میں نا کام ہے۔
تجویل سدی پیٹ میں منعقدہ تر کا کا شاہ طبقہ میں پتھر تراشنے اور کاٹنے کی 100 مشینوں کی تقسیم کے پروگرام کے دوران سابق رکن قانون ساز کونسل جناب محمد فاروق حسین، علی بن ابراہیم مستقلی رکن قانون ساز کونسل دی پرتاپ ریڈی جناب یونس کہانی، مسترام این سرینواس کے علاوہ دیگر سرکردہ قائدین موجود تھے۔
علی بن ابراہیم مستطی انچارج حلقہ اسمبلی چار مینار نے اپنے خطاب کے دوران ریاستی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کانگریس نے اقتدار میں آنے کے بعد محض مسلمانوں کو ہی نہیں بلکہ ریاست کے تمام طبقات کو مایوس کیا ہے جس کے نتیجہ میں ہر طبقہ میں ناراضگی پائی جانے لگی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مسلمانوں کی ترقی وخوشحالی کے لئے کئے جانے والے وعدوں کی بنیاد پر ریاست کے مسلمانوں نے کانگریس کی بھر پور حمایت کی تھی لیکن اندرون 2 برس کا نگریس نے اپنا حقیقی چہرہ آشکار کر دیا۔
علی مسقطی کی جانب سے تر کا کا شاہ طبقہ کے مسلمانوں کے لئے 100 پھر کالنے کی مشینوں کا عطیہ دیئے جانے پر ہریش راؤ نے اظہار تشکر کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں جو کام حکومت تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کے ذریعہ کر رہی ہے وہ بی آرایس قا ئد علی مستطی اپنے ذاتی طریق سے کر رہے ہیں۔
تر کا کا شاہ طبقہ سے تعلق رکھنے والوں کی اسوسیشن کے ذمہ داروں نے بتایا کہ انہیں جو مشینوں کی فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور اب حکومت کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی ان پر توجہ مرکوز کی جانے گئی ہے۔
شیخ بڑے صاحب نے اس موقع پر بتایا کہ تا حال اس طبقہ سے تعلق رکھنے والے 2000 افراد کو چھر کاٹنے اور تراشنے کی مشینیں حاصل ہو چکی ہیں اور اب حکومت تلنگانہ اور نگانہ میناریٹی فینانس کارپوریشن کی جانب سے بھی مشینوں کی فراہمی کی اسکیم شروع کی گئی۔