تلنگانہ میں کانگریس حکومت کا قرض 4 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز
تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے تین سالہ دور میں مبینہ طور پر 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض لیا گیا ہے۔ دسمبر 2023 سے اکتوبر 2026 تک حکومت کی جانب سے 4,01,234 کروڑ روپے قرض حاصل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
حیدرآباد: تلنگانہ میں کانگریس حکومت کے تین سالہ دور میں مبینہ طور پر 4 لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا قرض لیا گیا ہے۔ دسمبر 2023 سے اکتوبر 2026 تک حکومت کی جانب سے 4,01,234 کروڑ روپے قرض حاصل کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دسمبر 2023 میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد سے حکومت کی جانب سے مختلف ذرائع سے لیے گئے قرض کی مجموعی رقم اب 4 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔
قرض لینے کی اس رفتار نے ریاست کی مالی صورتحال اور حکومت کی مالیاتی پالیسی پر سیاسی بحث کو تیز کردیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے حکومت کے قرض لینے کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں اور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ قرض کی رقم کہاں خرچ کی گئی، اس کی تفصیلات عوام کے سامنے لائی جائیں۔
حکومت کی جانب سے اپنے دور میں مختلف فلاحی اور ترقیاتی پروگراموں پر توجہ دینے کا دعویٰ کیا جاتا رہا ہے۔ ان میں بنیادی ڈھانچے کے منصوبے، فلاحی اسکیمیں اور دیگر بڑے ترقیاتی پروگرام شامل ہیں۔
سیاسی حلقوں میں ریاست کے بڑھتے ہوئے قرض، قرض کی واپسی کی ذمہ داریوں اور مالیاتی نظم و ضبط پر مزید بحث متوقع ہے۔
دریں اثنا، حکومت کے مجموعی بقایاجات، قرض کی شرائط اور مستقبل میں قرض کی ادائیگی سے متعلق تفصیلی اعداد و شمار پر مزید وضاحت کا انتظار ہے۔