مشرق وسطیٰ

غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں پر مسلسل اسرائیلی بمباری جاری

اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں پر مسلسل اسرائیلی بمباری جاری ہے جس میں مزید شہریوں کی اموات ہو رہی ہیں۔

یروشلم: اسرائیل اور فلسطینی دھڑوں کے درمیان ایک ہفتے سے جاری عارضی جنگ بندی کے خاتمے کے بعد سے غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں پر مسلسل اسرائیلی بمباری جاری ہے جس میں مزید شہریوں کی اموات ہو رہی ہیں۔

متعلقہ خبریں
اسرائیلی فائرنگ میں پانچ افراد فوت

فلسطینی میڈیا کے مطابق اسرائیلی کشتیوں نے غزہ کے جنوب میں رفح اور خان یونس شہرکے ساحلوں پر گولہ باری کی ہے۔

اسرائیلی فوج نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس کی زمینی افواج تمام علاقوں میں حماس کے جنگجوؤں کا مقابلہ کر رہی ہیں۔ یہ ابھی تک واضح ترین اشارہ ہے کہ پٹی کے جنوب میں طے شدہ زمینی حملے شروع ہو گئے ہیں جہاں بڑی تعداد میں بڑی تعداد میں نقل مکانی کرنے والے لوگ پناہ لیے ہوئے ہیں۔

العربیہ کے مطابق حماس نے اس سے قبل اعلان کیا تھا کہ اس کے جنگجوؤں کی خان یونس شہر سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر اسرائیلی فوج کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔

خان یونس کے رہائشیوں نے تصدیق کی کہ وہ ٹینک فائر کی آواز سن سکتے ہیں، لیکن انہوں نے اسرائیل کے نئے زمینی حملے کا خدشہ ظاہر کیا جہاں دسیوں ہزار افراد شمال سے جنوب کی طرف نقل مکانی کرچکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹینکوں نے خان یونس کو وسطی غزہ میں دیر البلح سے ملانے والی سڑکوں کو کاٹ دیا اور پٹی کو تین حصوں میں تقسیم کر دیا۔

یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب اسرائیلی فوج نے خان یونس کے رہائشیوں کو شہر کے اندر اور اس کے آس پاس کے کچھ علاقوں کو خالی کرنے کے لیے کہا۔ اسرائیلی فوج نے ایک نقشہ شائع کیا جس میں یہ دکھایا گیا ہے کہ شہریوں کو مغرب اور جنوب میں مصر کی سرحد کی رفح کی طرف جانا چاہیے۔

جیسے ہی بہت سے رہائشیوں نے اپنا سامان باندھنا شروع کیا انہوں نے تصدیق کی کہ جن علاقوں میں انہیں جانے کا حکم دیا گیا تھا وہ حملے کی زد میں تھے!

خان یونس کے ناصر میڈیکل کمپلیکس ہسپتال کو پیر کی صبح مزید زخمی موصول ہوئے، جب گذشتہ گھنٹوں کے دوران شہر کو "درجنوں فضائی حملوں اور فائر بیلٹس کا نشانہ بنایا گیا۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی کے مطابق، جب کہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں کم از کم 70 افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی بتائی جاتی ہے۔