حیدرآباد

جامعہ نظامیہ کی وقف اراضی پر مبینہ قبضوں پر ایس ڈی پی آئی کا اظہارِ تشویش، فوری کارروائی کا مطالبہ

ایس ڈی پی آئی تلنگانہ کے ریاستی صدر سید منصور شاہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وقف املاک مذہبی، تعلیمی اور فلاحی مقاصد کے لیے وقف کیے گئے قیمتی اثاثے ہیں، جن کا تحفظ ریاستی اداروں کی قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کی قیمتی اراضی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی اور رجسٹریشن سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نہایت سنگین نوعیت کی ہیں اور ان کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

حیدرآباد : سوشل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا (ایس ڈی پی آئی) تلنگانہ نے جامعہ نظامیہ، معین آباد کی تقریباً 237 ایکڑ وقف اراضی پر مبینہ قبضوں، غیر قانونی رجسٹریشن اور غیر مجاز منتقلی سے متعلق اطلاعات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ تلنگانہ، وقف بورڈ اور متعلقہ حکام سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

ایس ڈی پی آئی تلنگانہ کے ریاستی صدر سید منصور شاہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ وقف املاک مذہبی، تعلیمی اور فلاحی مقاصد کے لیے وقف کیے گئے قیمتی اثاثے ہیں، جن کا تحفظ ریاستی اداروں کی قانونی اور آئینی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ نظامیہ کی قیمتی اراضی کی مبینہ غیر قانونی منتقلی اور رجسٹریشن سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات نہایت سنگین نوعیت کی ہیں اور ان کی مکمل، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات ہونی چاہئیں۔

پارٹی نے اس معاملے میں عدالتی مداخلت کا خیر مقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عدالت کی جانب سے جاری کردہ احکامات پر بلا تاخیر عمل درآمد کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ تمام وقف املاک کا جامع سروے، تحفظ اور قانونی نگرانی کی جائے۔

بیان میں کہا گیا کہ ملک بھر میں وقف اراضی طویل عرصے سے قبضوں اور انتظامی غفلت کا شکار رہی ہے، جس کے باعث متعدد تعلیمی، مذہبی اور سماجی فلاحی اداروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ ایس ڈی پی آئی کے مطابق وقف جائیدادوں کا تحفظ صرف ایک قانونی تقاضا ہی نہیں بلکہ سماجی ذمہ داری بھی ہے تاکہ ان سے حاصل ہونے والے وسائل عوامی فلاح و بہبود کے لیے استعمال ہوتے رہیں۔

ایس ڈی پی آئی تلنگانہ نے مطالبہ کیا کہ متنازعہ وقف اراضی سے متعلق عدالتی احکامات پر فوری عمل درآمد کیا جائے، ریاست بھر کی تمام وقف املاک کا جامع سروے اور ڈیجیٹائزیشن کی جائے، غیر قانونی قبضوں یا رجسٹریشن میں ملوث افراد اور سرکاری اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور وقف اثاثوں کی نگرانی و تحفظ کے لیے خصوصی نظام قائم کیا جائے۔

پارٹی نے مزید زور دیا کہ وقف انتظامیہ میں مکمل شفافیت لائی جائے اور وقف املاک سے متعلق ریکارڈ کو باقاعدگی کے ساتھ عوامی سطح پر پیش کیا جائے تاکہ کسی بھی قسم کی بے ضابطگی یا بدعنوانی کا سدباب کیا جا سکے۔

ایس ڈی پی آئی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ وقف املاک کے تحفظ، برادری کے اثاثوں کی بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے کی جانے والی تمام قانونی اور جمہوری کوششوں کی حمایت جاری رکھے گی۔