تلنگانہ

تعلیمی نظام طلبہ کو بااختیار بنانے کے بجائے مسترد کر رہا ہے: کے۔ پرشانت ریڈی

نارائن پیٹ ضلع مرکز کے سی وی آر بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت ریڈی نے کہا کہ کانگریس قائد راہل گاندھی ملک بھر میں طلبہ، نوجوانوں اور والدین سے رابطہ قائم کرکے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام، جس میں سو طلبہ میں صرف ایک کو کامیاب قرار دیا جائے اور باقی ننانوے کو ناکام سمجھا جائے، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

نارائن پیٹ: کانگریس پارٹی نارائن پیٹ ضلع کے صدر کے۔ پرشانت ریڈی نے موجودہ تعلیمی نظام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں رائج نظامِ تعلیم طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے بجائے انہیں مسترد کرنے والا ’’ریجیکشن سسٹم‘‘ بن چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ مرکزی حکومت تعلیم کے شعبے کو کمزور کر رہی ہے، جبکہ تلنگانہ کی کانگریس حکومت وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی قیادت میں تعلیمی میدان میں انقلابی اصلاحات نافذ کر رہی ہے۔

نارائن پیٹ ضلع مرکز کے سی وی آر بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پرشانت ریڈی نے کہا کہ کانگریس قائد راہل گاندھی ملک بھر میں طلبہ، نوجوانوں اور والدین سے رابطہ قائم کرکے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیوں کی ضرورت کو اجاگر کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نظام، جس میں سو طلبہ میں صرف ایک کو کامیاب قرار دیا جائے اور باقی ننانوے کو ناکام سمجھا جائے، انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہر سال تقریباً 23 لاکھ طلبہ نیٹ (NEET)، 13 لاکھ طلبہ جے ای ای (JEE)، 25 لاکھ امیدوار یو پی ایس سی (UPSC) اور کروڑوں نوجوان آر آر بی (RRB) امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، لیکن مرکزی حکومت ان کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح پالیسی یا یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہی ہے۔

پرشانت ریڈی نے کہا کہ آئی آئی ٹی اور میڈیکل اداروں میں داخلوں کے لیے لاکھوں طلبہ سخت محنت کرتے ہیں، لیکن محدود نشستوں کے باعث صرف چند امیدواروں کو کامیابی ملتی ہے، جبکہ اکثریت نظام کی جانب سے نظرانداز کر دی جاتی ہے۔ انہوں نے نیٹ پرچہ لیک معاملے کو تعلیمی نظام کی بڑی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس واقعہ سے لاکھوں طلبہ اور والدین ذہنی اذیت کا شکار ہوئے، تاہم مرکزی حکومت نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔ انہوں نے نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی (NTA) کے خلاف کارروائی اور مرکزی وزیر تعلیم کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی کیا۔

انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت ریاست کے ہر طالب علم کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے مقصد سے انٹیگریٹڈ رہائشی اسکول قائم کر رہی ہے۔ جدید سائنسی تجربہ گاہوں، ڈیجیٹل کلاس رومز، معیاری لائبریریوں اور کھیلوں کی سہولتوں کے ذریعے سرکاری تعلیمی اداروں کو کارپوریٹ سطح کے مساوی بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

کانگریس رہنما نے کہا کہ نارائن پیٹ جیسے پسماندہ اضلاع کو خصوصی ترجیح دی جا رہی ہے اور تعلیم کے ساتھ آبپاشی کے شعبے میں بھی بڑے ترقیاتی منصوبے نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ نارائن پیٹ۔کوڈنگل خطے کو ترقی اور خوشحالی کی نئی راہوں پر گامزن کیا جا سکے۔

انہوں نے بی جے پی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ مرکزی حکومت طلبہ کو صرف امتحانی مشینوں میں تبدیل کر رہی ہے، جبکہ کانگریس ایک ایسے تعلیمی نظام کے لیے جدوجہد کر رہی ہے جو نوجوانوں کے خوابوں کو حقیقت کا روپ دے سکے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ جہاں مودی حکومت ملک کو مسائل کی طرف لے جا رہی ہے، وہیں ریونت ریڈی حکومت ترقی اور فلاح و بہبود کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہے۔

پرشانت ریڈی نے اعلان کیا کہ طلبہ کے مسائل، تجاویز اور آراء جاننے کے لیے جلد خصوصی اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور ان کی سفارشات کو ریاستی اور قومی قیادت تک پہنچایا جائے گا۔ انہوں نے طلبہ سے اپیل کی کہ وہ مایوسی کا شکار نہ ہوں بلکہ اعتماد اور عزم کے ساتھ اپنے مستقبل کی تعمیر میں مصروف رہیں۔

پریس کانفرنس میں کانگریس پارٹی کے ضلع جنرل سکریٹری ایم ڈی سلیم، ضلع ترجمان ایڈوکیٹ سنتوش کمار، جناردھن ریڈی، کوٹلہ رویندر ریڈی، وینکٹیش گوڑ، اقلیتی سیل ضلع صدر محمود قریشی، ایم ڈی غوث، سدھاکر، سراف ناگراج، امیرالدین ایڈوکیٹ، کوروا منوج اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔