دہلی
کرپٹو کرنسی معاملتیں اب منی لانڈرنگ تصورکی جائیں گی
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ ورچول ڈیجیٹل اثاثہ جات کا تبادلہ یا منتقلی بھی پی ایم ایل اے قوانین کے تحت آئیں گے۔ قانون انکم ٹیکس کے مطابق ایک ورچول ڈیجیٹل اثاہ کرپٹوگرافک طریقہ کار کے ذریعہ تخلیق کردہ کوئی بھی معلومات، کوڈ، نمبر یا ٹوکن منسوب ہوگا۔

نئی دہلی: مرکز نے کہا کہ مجازی (ورچول)ڈیجیٹل اثاثہ جات یا کرپٹو کرنسی میں مشغول معاملت میں کسی قسم کی شراکت داری قانون انسداد منی لانڈرنگ یا پی ایم ایل اے کے تحت آئے گی۔ اس کا اعلان 7 /مارچ کو شائع ایک گزٹ اعلامیہ کے ذریعہ کیا گیا ہے۔
یہ اقدام ڈیجیٹل اثاثہ جات کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے کیا گیا ہے۔ گزٹ میں حکومت نے سرمایہ کاروں کو ایک جاری کنندہ کی پیشکش سے متعلق مالیاتی خدمات کی فراہمی اور مجازی ڈیجیٹل اثاثہ جات کی فروختگی میں ملوث ہونے کے خلاف متنبہ کیا ہے۔
اعلامیہ میں مزید کہا گیا کہ ورچول ڈیجیٹل اثاثہ جات کا تبادلہ یا منتقلی بھی پی ایم ایل اے قوانین کے تحت آئیں گے۔ قانون انکم ٹیکس کے مطابق ایک ورچول ڈیجیٹل اثاہ کرپٹوگرافک طریقہئ کار کے ذریعہ تخلیق کردہ کوئی بھی معلومات، کوڈ، نمبر یا ٹوکن منسوب ہوگا۔