دہلی کی راؤز ایونیو عدالت کا خواتین پہلوانوں سے مبینہ جنسی ہراسانی کیس میں فیصلہ
دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے خواتین پہلوانوں سے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (WFI) صدر برج بھوشن شرن سنگھ اور سابق ڈبلیو ایف آئی اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بری کردیا۔
نئی دہلی: دہلی کی راؤز ایونیو عدالت نے خواتین پہلوانوں سے مبینہ جنسی ہراسانی کے معاملے میں سابق ریسلنگ فیڈریشن آف انڈیا (WFI) صدر برج بھوشن شرن سنگھ اور سابق ڈبلیو ایف آئی اسسٹنٹ سکریٹری ونود تومر کو بری کردیا۔
یہ مقدمہ چھ خواتین پہلوانوں کی شکایات کی بنیاد پر درج کیا گیا تھا۔ شکایت کنندگان نے برج بھوشن شرن سنگھ پر ڈبلیو ایف آئی صدر کی حیثیت سے اپنے دور میں جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے۔
ان الزامات کے بعد ملک کے معروف پہلوانوں نے 2023 میں احتجاج کیا تھا، جس نے قومی سطح پر خاصی توجہ حاصل کی۔ پہلوانوں نے سابق ڈبلیو ایف آئی صدر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں استغاثہ کی جانب سے شکایت کنندگان سمیت مختلف گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے گئے۔ حتمی دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے 2 جولائی کو فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔
اب عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے برج بھوشن شرن سنگھ اور ونود تومر کو اس معاملے میں بری کردیا ہے۔
خواتین پہلوانوں سے متعلق یہ معاملہ کئی برسوں سے ملک بھر میں زیر بحث رہا اور 2023 میں ہونے والے پہلوانوں کے احتجاج کے بعد یہ ایک اہم قانونی اور سیاسی معاملہ بن گیا تھا۔