تلنگانہ

خواتین سے کئے گئے وعدوں کی تکمیل کا مطالبہ: کویتا کی قیادت میں پرجا بھون کا گھیراؤ اور دھرنا

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا کی قیادت میں خواتین، معمرین اور معذورین سے کئے گئے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کے مطالبے کو لے کر پرجا بھون کا گھیراؤ اور دھرنا منعقد کیا گیا۔

تلنگانہ جاگروتی کی صدر کلواکنٹلہ کویتا کی قیادت میں خواتین، معمرین اور معذورین سے کئے گئے انتخابی وعدوں پر عمل درآمد کے مطالبے کو لے کر پرجا بھون کا گھیراؤ اور دھرنا منعقد کیا گیا۔ بیگم پیٹ میں واقع پرجا بھون کے سامنے بڑی تعداد میں کارکنان اور خواتین نے احتجاج کرتے ہوئے حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

متعلقہ خبریں
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
بی آر ایس کی رکن قانون ساز کونسل کویتا کی کانگریس حکومت اور چیف منسٹر ریونت ریڈی پر شدید تنقید
گنگا جمنی ثقافت کا عملی مظاہرہ، میدک میں قومی یکجہتی کی مثال قائم
تربیت، تفریح اور تخلیق کا حسین امتزاج،عیدگاہ اجالے شاہ سعیدآباد پر سی آئی او کے رنگا رنگ چلڈرن فیسٹیول کا انعقاد
ریاستوں اور زمینوں کی تقسیم  سے دل  تقسیم نہین ہوتے۔

احتجاج کے دوران مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ خواتین کو ماہانہ 2500 روپئے امداد، ایک تولہ سونا، اسکوٹیز اور پنشن میں اضافہ جیسے وعدوں کو فوری طور پر نافذ کیا جائے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ وعدے انتخابی منشور کا حصہ تھے، اس لیے حکومت کو انہیں بلا تاخیر عملی جامہ پہنانا چاہئے۔

بعد ازاں کویتا نے پرجاوانی کی نوڈل آفیسر دیویا کو یادداشت پیش کرتے ہوئے خواتین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ بلدی انتخابات میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور بھارت راشٹرا سمیتی کے درمیان اندرونی ساز باز ہوئی جس کے باعث بی جے پی کو فائدہ پہنچا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ اسمبلی انتخابات میں دونوں جماعتوں کے درمیان باضابطہ اتحاد کا خدشہ موجود ہے۔

کویتا نے کانگریس حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر 26 فروری کو پیش کئے جانے والے بجٹ میں خواتین کے لئے ماہانہ 2500 روپئے امداد، اسکوٹیز اور ایک تولہ سونا دینے کے لئے فنڈس مختص نہ کئے گئے تو ریاست بھر میں احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ موجودہ 2000 روپئے پنشن کو بڑھا کر 4000 روپئے کیا جائے اور تمام وعدے اسی بجٹ میں شامل کئے جائیں۔

انہوں نے الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران پولیس نے طلبہ اور خواتین کے ساتھ سخت رویہ اختیار کیا اور کچھ افراد کو حراست میں لیا گیا۔ کویتا نے حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ اگر خواتین کے حقوق کو نظر انداز کیا گیا تو تلنگانہ جاگروتی ریاست گیر سطح پر بھرپور تحریک چلائے گی۔

اپنے خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ کسانوں کو بونس دینا وعدے کی تکمیل ہے، اسی طرح خواتین سے کئے گئے وعدے بھی پورے کئے جائیں۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ خواتین کو خوشحال بنانے کے دعوے کئے گئے تھے، کم از کم ماہانہ 2500 روپئے امداد ہی دی جائے، ورنہ احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔