دوحہ میں امریکہ ایران بالواسطہ مذاکرات کی تفصیلات سامنے آ گئیں
مذاکرات میں لبنان، آبنائے ہرمز اور مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے امور زیرِ بحث آئے۔ ایران نے اسرائیل پر لبنان میں اپنی موجودگی کے ذریعے مفاہمت کی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا۔ تہران نے دیگر معاملات سے پہلے مفاہمت کی یادداشت کی 5 شقوں پر مقررہ وقت کے مطابق عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی اور انھیں مرکزی بینک کے لیے دستیاب کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
تہران: العربیہ کے مطابق دوحہ میں امریکہ اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی میں بالواسطہ مذاکرات ہوئے۔
ایران، قطر اور پاکستان کے درمیان امریکہ کے ساتھ مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے سہ فریقی اجلاس بھی منعقد ہوا۔
مذاکرات میں لبنان، آبنائے ہرمز اور مفاہمت کی یادداشت پر عمل درآمد کے امور زیرِ بحث آئے۔ ایران نے اسرائیل پر لبنان میں اپنی موجودگی کے ذریعے مفاہمت کی یادداشت کو سبوتاژ کرنے کا الزام عائد کیا۔ تہران نے دیگر معاملات سے پہلے مفاہمت کی یادداشت کی 5 شقوں پر مقررہ وقت کے مطابق عمل درآمد کا مطالبہ کیا۔ ایران نے اپنے منجمد اثاثوں تک رسائی اور انھیں مرکزی بینک کے لیے دستیاب کرنے کا مطالبہ دہرایا۔
ایران نے کوآرڈینیشن کی صورت میں آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کی یقین دہانی کرائی، تاہم اپنی خودمختاری پر زور دیا۔ تہران نے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کی پابندی اور آئی اے ای اے کے ساتھ تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
دوحہ میں 3 تکنیکی ٹیموں نے بحری سیکیورٹی اور جوہری معاملات پر تبادلہ خیال کیا۔ ایران نے منجمد فنڈز کے اجرا کے بدلے مزید تعاون پر آمادگی ظاہر کی، جب کہ یہ فنڈز غذائی اشیا کی خریداری کے لیے استعمال کیے جائیں گے۔ اس دوران پاکستان اور قطر نے دونوں فریقوں پر عارضی مفاہمت تک پہنچنے کے لیے زور دیا۔