بین الاقوامی

ایلون مسک کی کمپنی نیورالنک نے انسان میں پہلی دماغی چپ لگا دی

ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کمپنی نیورالنک نے کامیابی کے ساتھ پہلا انسانی امپلانٹ ایک شخص کے دماغ میں لگادیا ہے اور جس شخص کے بھیجے میں یہ چپ لگائی گئی ہے وہ ٹھیک ہو رہا ہے۔

نئی دہلی: ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے مالک ایلون مسک نے اعلان کیا ہے کہ ان کی دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کمپنی نیورالنک نے کامیابی کے ساتھ پہلا انسانی امپلانٹ ایک شخص کے دماغ میں لگادیا ہے اور جس شخص کے بھیجے میں یہ چپ لگائی گئی ہے وہ ٹھیک ہو رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
ایلون مسک اپنے بیٹے کے ساتھ ایک خوبصورت تصویر میں نظر آئے
ٹویٹر کے صارفین کی تعداد میں ہر ہفتے اضافہ: مسک

ایلون مسک نے کہا کہ کمپنی کا یہ پہلا پروڈکٹ ہے جسے ٹیلی پیتھی کا نام دیا گیا ہے۔ جب یہ شخص صرف سوچے گا تو وہ کام ہوجائے گا، جیسے فون یا کمپیوٹر کو کنٹرول کرنا وغیرہ۔

نیورالنک نے گزشتہ سال انسان پر اس کی آزمائش کے لئے امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی منظوری حاصل کی تھی اور ستمبر میں کہا تھا کہ وہ چھ سالہ ابتدائی آزمائش کے لئے پہلے شخص کی تلاش میں ہے۔

ایلون مسک نے ایک ٹویٹ کرکے کہا کہ "پہلے انسان کو نیورالنک کا ایک امپلانٹ مل گیا ہے اور وہ ٹھیک ہو رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ ابتدائی نتائج میں امید افزا نیوران سپائیک کا پتہ چلا ہے۔ مسک نے مطلع کیا کہ پہلا نیورالنک پروڈکٹ ’’ٹیلی پیتھی‘‘ کے نام سے جانا جائے گا۔

دنیا کے امیر ترین ارب پتی کے مطابق یہ آپ کے فون یا کمپیوٹر اور ان کے ذریعے تقریباً کسی بھی ڈیوائس کو صرف سوچ سمجھ کر کنٹرول کرنے کے قابل بنائے گا۔

مسک نے مزید کہا کہ ابتدائی صارف وہ ہوں گے جنہوں نے اپنے اہم اعضاء کھودیئے ہیں۔

امریکی سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے مطابق گزشتہ سال نومبر میں، دماغی کمپیوٹر انٹرفیس کمپنی نیورالنک نے وینچر کیپیٹل میں 43 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی تھی۔

نیورالنک کی بنیاد 2016 میں رکھی گئی تھی۔ اس نے ایک سلائی مشین جیسا آلہ تیار کیا ہے جو دماغ کے اندر انتہائی پتلے اور مہین دھاگوں کو امپلانٹ کرنے یا لگانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

یہ دھاگے الیکٹروڈ کے ساتھ اپنی مرضی کے مطابق ڈیزائن کردہ چپ سے جڑتے ہیں جو ہمارے دماغ کے نیوران کے ڈیٹا کو پڑھ سکتے ہیں۔