پیرول پر رہا ہونے کے بعد 40 سال تک فرار قیدی گرفتار، 30 سال سرکاری استاد کے طور پر ملازمت کی
ملزم کی شناخت ساندے ویرنا کے طور پر ہوئی ہے، جو محبوب آباد ضلع کے دنتالاپلی منڈل کے پیڈاموپّرم گاؤں کا رہنے والا ہے۔ وارنگل ڈسٹرکٹ کورٹ نے ایک مقدمے میں 9 جون 1983 کو اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
محبوب آباد: تلنگانہ میں ایک حیران کن معاملہ سامنے آیا ہے، جہاں عمر قید کی سزا پانے والا ایک قیدی جیل سے پیرول پر رہا ہونے کے بعد تقریباً 40 سال تک واپس جیل نہیں لوٹا اور اس دوران تقریباً 30 سال تک سرکاری اسکول میں استاد کے طور پر ملازمت بھی کرتا رہا۔ حیرت انگیز طور پر اسے 2004 میں بہترین استاد کا ایوارڈ بھی ملا۔
ملزم کی شناخت ساندے ویرنا کے طور پر ہوئی ہے، جو محبوب آباد ضلع کے دنتالاپلی منڈل کے پیڈاموپّرم گاؤں کا رہنے والا ہے۔ وارنگل ڈسٹرکٹ کورٹ نے ایک مقدمے میں 9 جون 1983 کو اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
ویرنا کو اسی سال 17 دسمبر 1983 کو پیرول پر رہا کیا گیا تھا۔ اسے 18 مارچ 1984 کو دوبارہ جیل واپس ہونا تھا، تاہم وہ مقررہ وقت پر جیل نہیں پہنچا اور اس کے بعد مسلسل فرار رہا۔
رپورٹس کے مطابق، جیل سے فرار رہنے کے دوران ویرنا نے سرکاری استاد کی حیثیت سے ملازمت کی اور تقریباً 30 سال تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسے 2004 میں بہترین استاد کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا، جبکہ وہ تقریباً 13 سال قبل ملازمت سے سبکدوش ہوا۔
تقریباً 40 سال اور 58 دن تک گرفتاری سے بچنے کے بعد 16 مئی 2024 کو وارنگل سنٹرل جیل کی اسپیشل ٹاسک فورس نے اسے تلاش کرکے دوبارہ حراست میں لے لیا۔
بعد ازاں حکام نے ایک میمو جاری کرتے ہوئے کہا کہ ویرنا کو تین سال تک پیرول یا سزا میں معافی کی سہولت نہیں دی جائے گی۔
اس کے بعد ملزم کی اہلیہ ساندے چارماں نے رشتہ داروں کی مدد سے تلنگانہ ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے درخواست دائر کی۔
درخواست پر سماعت کے بعد ہائی کورٹ نے اسے خارج کردیا۔ عدالت نے مشاہدہ کیا کہ ملزم نے جان بوجھ کر طویل عرصے تک گرفتاری سے بچنے کی کوشش کی تھی۔
یہ معاملہ اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ عمر قید کی سزا پانے والا شخص تقریباً چار دہائیوں تک جیل سے باہر رہا، سرکاری ملازمت کی، بہترین استاد کا ایوارڈ حاصل کیا اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کئی برس تک قانون کی گرفت سے باہر رہا۔