مشرق وسطیٰ

غزہ ’دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل‘ سے ’کھلے قبرستان‘ میں تبدیل: یورپی یونین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ غزہ کو ’دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل‘ سے دنیا کے سب سے بڑے ’کھلے قبرستان‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

بروسیلز: یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزپ بوریل نے کہا کہ غزہ کو ’دنیا کی سب سے بڑی کھلی جیل‘ سے دنیا کے سب سے بڑے ’کھلے قبرستان‘ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

متعلقہ خبریں
نیتن یاہو نے کم وسائل میں بھی لڑنے کا اعلان کیا
غزہ کے عوام کا تاریخی صبر جس نے اسلام کا سر بلند کردیا: رہبر انقلاب اسلامی
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
رفح پر اسرائیلی حملہ، خون کی ہولی کا باعث بن سکتا ہے: ڈبلیو ایچ او
اسرائیل رہائشیوں کو رفح سے غزہ کے جنوب مغربی ساحل پر المواسی منتقل کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے

یاد رہے کہ ہیومن رائٹس واچ نے غزہ کی پٹی میں حالات کا موازنہ کرتے ہوئے اسے ’کُھلی جیل‘ قرار دیا تھا۔

عرب میڈیا کے مطابق جوزپ بوریل نے پیر برسلز میں یورپی یونین کے وزراء کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جنگ سے پہلے غزہ سب سے بڑی کھلی جیل تھی، آج یہ سب سے بڑا کھلا ہوا قبرستان ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس قبرستان میں ہزاروں فلسطینیوں اور بنیادی انسانی حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین کو دفن کیا گیا ہے۔

یورپی یونین کے سربراہ نے کہا کہ ’اسرائیل انسانی بنیادوں پر غزہ کے لوگوں کے لیے امدادی سامان کی ترسیل میں رکاوٹیں ڈال کر قحط کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، ان رکاوٹوں کے ذریعے اسرائیل قحط کو مزید بڑھا رہا ہے۔‘

یورپی یونین میں شامل 27 ممالک اس بات پر متفق نہیں ہوسکے کہ غزہ کی جنگ کا ایک ساتھ جواب کیسے دیا جائے کیونکہ ان ممالک میں سے کچھ اسرائیل کی بھرپور حمایت کرتے ہیں جبکہ کچھ فلسطین کے حق میں ہیں۔