مشرق وسطیٰ

غزہ قبرستان میں تبدیل، شہداء کی تعداد 10 ہزار سے متجاوز

اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، جس کے سبب شہادتوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے اضافہ ہوتا جارہا ہے، شہید فلسطینیوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں چار ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔

غزہ: اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ تھمنے کا نام نہیں لے رہا، جس کے سبب شہادتوں کی تعداد میں ہر گزرتے دن کے اضافہ ہوتا جارہا ہے، شہید فلسطینیوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں چار ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔

متعلقہ خبریں
فلسطینی فوٹو جرنلسٹ نے فرانس کا بڑا انعام ’فریڈم پرائز‘ جیت لیا
موت، تباہی اور غصہ کے درمیان غزہ میں خون سے رنگی عید
اسرائیل بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے تمام فیصلوں پر جلد عمل درآمد کرے: ترکیہ
غزہ میں پہلا روزہ، اسرائیل نے فلسطینیوں کو مسجد اقصیٰ میں داخل ہونے سے روک دیا
اسرائیل حماس مذاکرات شروع کریں، غزہ کے لوگ زیادہ انتظار نہیں کر سکتے: سعودی عرب

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیل کی جنگ فلسطینی انکلیو کو ’بچوں کے قبرستان‘ میں تبدیل کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک ماہ کے دوران فضائی حملوں اور توپ خانے کی بمباری میں مرنے والے فلسطینیوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں چار ہزار سے زائد بچے شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے کہا کہ ’ہمیں اس سفاکانہ، ہولناک، اذیت ناک تباہی سے نکلنے کے لیے ابھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ ‘انہوں نے ایک بار پھر فوری طور پر انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ شہریوں کا تحفظ سب سے اہم ہونا چاہیے۔

اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ’ایک پوری آبادی کا محاصرہ کیا گیا اور ان پر حملہ کیا گیا، زندہ رہنے کے لیے ضروری اشیاء تک رسائی دینے سے انکار کیا گیا، ان کے گھروں، پناہ گاہوں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں پر بمباری کی گئی۔ یہ ناقابل قبول ہے۔‘ جنگ اب بند ہونی چاہیے۔

دوسری جانب اردن کی ملکہ رانیہ نے غزہ میں جنگ بندی کے اجتماعی مطالبے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ جو لوگ جنگ بندی کی مخالفت کر رہے ہیں وہ ہزاروں شہریوں کی ہلاکت کی حمایت اور جواز فراہم کر رہے ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے بیکی اینڈرسن کے ساتھ انٹرویو میں ملکہ رانیہ نے یہ بیان امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کے جنگ بندی کے مطالبے کو مسترد کرنے کے جواب میں دیا۔

گزشتہ روز عرب رہنماؤں سے ملاقات کے بعد انٹونی بلنکن نے کہا تھا کہ جنگ بندی سے حماس منظم ہو جائے گی اور دوبارہ وہ کام کرے گی جو اس نے سات اکتوبر کو کیا۔

ملکہ رانیہ نے کہا کہ جنگ بندی کے لیے ایک اجتماعی مطالبہ ہونا چاہیے اور میں کچھ ایسے لوگوں کو جانتی ہوں جو جنگ بندی کے خلاف ہیں۔ وہ یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے حماس کو تقویت ملے گی۔

a3w
a3w