دہلی

جنتر منتر پر خاتون صحافی سے بدسلوکی پر حکومت جواب دے: راہل

مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک خاتون صحافی نے جنتر منتر پر ایک پولیس افسر پر بدسلوکی کا الزام لگایا ہے اور سیکڑوں صحافی کئی گھنٹوں سے صرف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر بیٹھے رہے، لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔

نئی دہلی: کانگریس کے سابق صدر اور رہنما راہل گاندھی نے جنتر منتر پر ایک خاتون صحافی کے ساتھ پولیس افسر کی بدسلوکی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے اس معاملے پر جواب طلب کیا ہے۔


مسٹر گاندھی نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک خاتون صحافی نے جنتر منتر پر ایک پولیس افسر پر بدسلوکی کا الزام لگایا ہے اور سیکڑوں صحافی کئی گھنٹوں سے صرف ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کو لے کر بیٹھے رہے، لیکن پولیس نے ایف آئی آر درج نہیں کی۔


انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ جنتر منتر پر سیکڑوں لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے اور خواتین مظاہرین کے ساتھ بدسلوکی کے الزامات بھی عائد کیے جا رہے ہیں۔ کیمرے چھینے گئے اور صحافیوں کو گھسیٹا گیا۔


مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ پہلی بار نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی ویڈیو شواہد کے ساتھ پولیس افسران کی جانب سے خواتین کے ساتھ بدسلوکی کے معاملات سامنے آچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی کی خواتین اور طالبات اپنی سلامتی کو لے کر خوف زدہ ہیں اور ستیہ گرہ کر رہی ہیں، لیکن جس پولیس پر خواتین کی حفاظت کی ذمہ داری ہے، وہی خواتین پر ہاتھ اٹھا رہی ہے۔


انہوں نے سوال کیا کہ جو حکومت ایک خاتون کی شکایت درج کرنے سے ڈرتی ہے، وہ آخر کس کی حفاظت کر رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ دہلی پولیس وزارت داخلہ کے ماتحت ہے اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو اس کا جواب دینا ہوگا۔