سپریم کورٹ میں مغربی بنگال کے ’ایس آئی آر‘ کیس کی سماعت شروع؛ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی بھی موجود
ہندوستان کی سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کی جانب سے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی ’خصوصی تفصیلی نظر ثانی‘ کے عمل کو چیلنج کرنے والے اہم کیس کی سماعت شروع کر دی ہے اس کیس پرسماعت مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کی جانب سے آئین کی دفعہ 32 کے تحت دائر کردہ اس درخواست کی وجہ سے ہورہی ہے
نئی دہلی: ہندوستان کی سپریم کورٹ نے انتخابی کمیشن کی جانب سے مغربی بنگال میں انتخابی فہرستوں کی ’خصوصی تفصیلی نظر ثانی‘ کے عمل کو چیلنج کرنے والے اہم کیس کی سماعت شروع کر دی ہے اس کیس پرسماعت مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ کی جانب سے آئین کی دفعہ 32 کے تحت دائر کردہ اس درخواست کی وجہ سے ہورہی ہے جس میں ریاست میں الیکشن کمیشن کے ایس آئی آر کے عمل کو چیلنج کیا گیا ہے ممتا بنرجی کی کورٹ نمبر 1 میں ذاتی طور پرموجودگی کی وجہ سے یہ کارروائی ملک بھر میں توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
سپریم کورٹ کی جانب سے سکیورٹی کلیئرنس ملنے کے بعد ممتا بنرجی بنچ کے سامنے ذاتی طور پر پیش ہوئیں۔ ہجوم کی وجہ سے وکلاء کے آزادانہ طورپر آنے جانے پر پابندی عائد تھی۔
بدھ، 4 فروری کو سپریم کورٹ میں ان درخواستوں پر سماعت ہوئی جن میں ایس آئی آر عمل کی آئینی حیثیت کو چیلنج کیا گیا ہے اور الزام لگایا گیا ہے کہ مغربی بنگال میں ووٹر لسٹ سے بڑے پیمانے پر رائے دہندگان کو نکالا گیا ہے۔
یہ درخواستیں ریاست میں جاری ایس آئی آرکے عمل سے متعلق ہیں۔ ممتا بنرجی اس نظر ثانی کے عمل کو روکنے کا مطالبہ کر رہی ہیں اور اس وقت وہ مغربی بنگال کے ان خاندانوں کے ساتھ نئی دہلی میں موجود ہیں جن کا دعویٰ ہے کہ وہ اس عمل سے متاثر ہوئے ہیں۔
اپنی درخواست میں انہوں نے الزام لگایا کہ ایس آئی آر کی عمل نے عوام کے لیے ’’شدید مشکلات‘‘ پیدا کی ہیں اور اس کے نفاذ کے حوالے سے طریقہ کار اور قانونی خدشات اٹھائے ہیں۔ وزیر اعلیٰ، جو کولکتہ کے جوگیش چندر چودھری کالج آف لا سے قانون کی ڈگری رکھتی ہیں، مختصر عرصے تک بطور وکیل کام کر چکی ہیں؛ رپورٹس کے مطابق انہوں نے آخری بار 2003 میں وکالت کی تھی۔
ممتا بنرجی نے الیکشن کمیشن آف انڈیا اور ریاست کے چیف الیکٹورل آفیسر کے خلاف بھی سپریم کورٹ میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ ترنمول کانگریس کی سربراہ اور الیکشن کمیشن کے درمیان تنازع پیر کو اس وقت شدت اختیار کر گیا جب وہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے ساتھ میٹنگ سے بدتمیزی کا الزام لگاتے ہوئے واک آؤٹ کر گئیں۔ میٹنگ میں ممتا بنرجی کے ساتھ ترنمول لیڈر ابھیشیک بنرجی، کلیان بنرجی اور ایس آئی آر عمل سے متاثرہ مبینہ خاندانوں کے 12 ارکان بھی موجود تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممتا بنرجی پہلے ہی چیف الیکشن کمشنر کو چھ خطوط لکھ کر ایس آئی آر عمل پر اعتراضات اٹھا چکی ہیں۔ انہوں نے دہلی میں کمیشن کے ساتھ طے شدہ میٹنگ سے 48 گھنٹے قبل ایک اور خط بھیجا تھا۔
گیانیش کمار کے نام ان کا ایک خط ہفتہ کی شام منظر عام پر آیا، جس میں انہوں نے الیکشن کمیشن پر عوامی نمائندگی ایکٹ کی دفعات کی خلاف ورزی کا الزام لگایا۔ وزیر اعلیٰ نے الزام لگایا ہے کہ انسانی بنیادوں کو نظر انداز کرتے ہوئے قوانین اور ضوابط کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ایس آئی آر مسلط کیا گیا ہے۔
ریاستی اسمبلی انتخابات قریب ہونے کے پیش نظر، وزیر اعلیٰ کا خود سپریم کورٹ میں الیکشن کمیشن کے خلاف ایس آئی آر معاملے پر محاذ کھولنا انتخابی نظر ثانی کے اس مسئلے کو قومی سطح پر لے آیا ہے۔