حیدرآباد

ہیرٹیج واک، چارمینار کے دامن میں حسیناؤں نے اپنا حسن بکھیردیا

 چارمینار کے سائے تلے جب مختلف ممالک کی ماڈلس نے روایتی لباس میں شہر کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا تو گویا پرانے شہر کی گلیاں رنگ و نور سے جگمگا اٹھیں۔یہ صرف ایک واک نہیں بلکہ ماضی کی گواہی تھی۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے قلب میں واقع پرانا شہر ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا کیونکہ عالمی مقابلہ حسن میں شریک حسیناؤں نے تاریخی گلیوں میں ہیرٹیج واک کے ذریعہ اس شہر کے تہذیبی جوہر کو دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔

متعلقہ خبریں
چار مینار زون کے پرائمری و ہائی اسکولس کے طلباء میں تقسیم کے لیے نصابی کتب صدور مدارس کے حوالے
ملک میں مسلمانوں کے خلاف بڑھتے حملوں پر مسلم پرسنل لا بورڈ کا اظہارِ تشویش، ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان
ساوتھ زون کے مختلف مقامات پر قمار بازی اور سٹہ عروج پر!
گورنمنٹ ڈگری کالج فلک نما میں انا–اکّا مینٹورشپ انٹرن شپ تربیتی پروگرام کا آغاز
محرم الحرام 2026 کے انتظامات پر بی جے پی وفد کی کمشنر پولیس حیدرآباد سے ملاقات

 چارمینار کے سائے تلے جب مختلف ممالک کی ماڈلس نے روایتی لباس میں شہر کے تاریخی مقامات کا دورہ کیا تو گویا پرانے شہر کی گلیاں رنگ و نور سے جگمگا اٹھیں۔یہ صرف ایک واک نہیں بلکہ ماضی کی گواہی تھی۔

تقریباً 400 سالہ قدیم اس خطہ ارضی نے نہ صرف دکن کی تہذیب و تمدن کا بوجھ اپنے سینہ پر اٹھایا ہوا ہے بلکہ آج بھی اپنے منفرد فنِ تعمیر، خوش ذائقہ پکوان اور مہمان نوازی کی روایت کے باعث دنیا بھر میں ایک پہچان رکھتا ہے۔

ہیرٹیج واک کے دوران حسینہ جب لاڈ بازار، چارمینار اور چومحلہ پیلس کے راستوں سے گزریں تو ایسا لگا جیسے تاریخ کی ورق گردانی ہو رہی ہو۔اس منفرد پروگرام کے ذریعہ حیدرآباد کے پرانے شہر کو بین الاقوامی سطح پر ایک نئی شناخت ملی۔ صرف شہر کی خوبصورتی ہی نہیں بلکہ یہاں کے لوگوں کا گرم جوش استقبال، ثقافتی ہم آہنگی اور تاریخی شعور بھی ماڈلس اور عالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنے۔

اس موقع پر پرانا شہر کے مقامی فنکاروں نے روایتی دکنی مرفع کے مظاہرے پیش کیے جنہیں عالمی شرکاء نے کافی پسند کیا۔پرانا شہر صرف ایک مقام نہیں، بلکہ تہذیب کا جیتا جاگتا کامل نمونہ ہے جہاں ہر گلی، ہر عمارت اور ہر در و دیوار ایک داستان سناتی ہے۔

عالمی مقابلہ حسن کی شرکا کی یہاں آمد سے یہ بات ایک بار پھر واضح ہو گئی کہ حیدرآباد نہ صرف موجودہ ٹکنالوجی کا مرکز ہے بلکہ ایک ایسا شہر بھی ہے جہاں ماضی، حال اور مستقبل ایک دوسرے سے بغلگیر ہیں۔

اس ہیرٹیج واک نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ حیدرآباد کی شان صرف اس کی جدید ترقی میں نہیں، بلکہ اس کے ماضی کی جڑوں میں بھی پنہاں ہے، ایک ایسا ماضی جو آج بھی سانس لیتا ہے، جو آج بھی دیکھنے والوں کو محظوظ کرتا ہے، اور جو اب عالمی سطح پر تسلیم کیا جا رہا ہے اوریہ کہاجائے تو بیجا نہ ہوگا کہ حیدرآباد، پرانا شہر کے بغیر نامکمل ہے۔

 یہ لمحہ نہ صرف شہر کے لئے بلکہ ہندوستانی ثقافت کے لیے بھی فخر کا باعث ہے، کہ ہماری تہذیب، ہماری روایات اور ہمارے شہر آج بھی عالمی منظرنامے پر اپنی شناخت قائم کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔