سڑک کنارے نماز ادا کرنے والے مسلم نوجوان کوزدوکوب کیا گیا(ویڈیو وائرل)
وائرل ویڈیو کے مطابق، سنجے سنگھ چوہان نامی شخص، جو خود کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حامی بتاتا ہے، نے مبینہ طور پر مسلم نوجوان کا ہاتھ پکڑ کر اسے نماز ادا کرنے سے روک دیا۔
اتراکھنڈ کے شہر رشیکیش میں ایک مسلم نوجوان کو مبینہ طور پر سڑک کنارے نماز ادا کرنے سے روکنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
وائرل ویڈیو کے مطابق، سنجے سنگھ چوہان نامی شخص، جو خود کو بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا حامی بتاتا ہے، نے مبینہ طور پر مسلم نوجوان کا ہاتھ پکڑ کر اسے نماز ادا کرنے سے روک دیا۔
دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ نوجوان اپنی دادی کی عیادت کے لیے ایمس (AIIMS) اسپتال آیا تھا، جہاں وہ زیرِ علاج ہیں۔ اسپتال سے واپسی کے بعد وہ اپنے چچا حافظ دانش کے گھر جا رہا تھا تاکہ تازہ دم ہو سکے۔ اسی دوران اس نے راستے میں نماز ادا کرنے کی کوشش کی، لیکن سنجے سنگھ چوہان نے اسے روک لیا۔
ویڈیو میں نوجوان یہ الزام لگاتا ہوا نظر آتا ہے کہ چوہان نے اس کے ساتھ بدتمیزی کی، اس سے شناختی کارڈ طلب کیا اور اسے "باہر سے آیا ہوا شخص” (Outsider) قرار دیا۔ ویڈیو میں یہ بھی دیکھا جا سکتا ہے کہ موقع پر موجود بعض مقامی ہندو افراد نے معاملہ ٹھنڈا کرنے اور دونوں فریقوں کو سمجھانے کی کوشش کی، تاہم چوہان اپنے مؤقف پر قائم رہا۔
یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر اس ملک میں کیا ہوتا جا رہا ہے۔ اگر کوئی مسلمان سڑک کے کنارے، ریلوے اسٹیشن یا کسی اور مناسب جگہ پر چند منٹ خاموشی سے اپنی نماز ادا کر لے تو اس پر اتنا شدید اعتراض کیوں کیا جاتا ہے؟
گزشتہ کچھ عرصے سے ٹرینوں میں ہنی مون، بھجن، کیرتن اور دیگر مذہبی یا ذاتی سرگرمیوں کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوتی رہی ہیں، لیکن ان پر شاذ و نادر ہی ایسا ردعمل دیکھنے میں آیا جیسا نماز پڑھنے والے مسلمانوں کے معاملے میں سامنے آتا ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ کئی واقعات میں نماز ادا کرنے والے افراد کو روکنے، ان سے بدتمیزی کرنے، ان کی شناخت طلب کرنے، حتیٰ کہ مبینہ طور پر ان کے ساتھ مارپیٹ کرنے کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔ ایسے واقعات نہ صرف مذہبی آزادی بلکہ باہمی احترام اور سماجی ہم آہنگی پر بھی سوالیہ نشان کھڑے کرتے ہیں۔
بھارت کا آئین ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے اور مذہبی آزادی کا حق دیتا ہے۔ اگر کسی عوامی مقام پر قانون یا نظم و نسق سے متعلق کوئی مسئلہ ہو تو اس سے نمٹنے کی ذمہ داری متعلقہ انتظامیہ اور پولیس کی ہے، نہ کہ افراد خود قانون اپنے ہاتھ میں لیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شہری کے مذہبی جذبات اور آئینی حقوق کا یکساں احترام کیا جائے۔ اختلافِ رائے اپنی جگہ، لیکن تشدد، دھونس یا ہراسانی کسی بھی مہذب معاشرے میں قابلِ قبول نہیں ہو سکتی۔