حیدرآباد: ماں پر چھ سالہ بیٹی کو حسین ساگر میں پھینکنے کا الزام، آٹو ڈرائیور نے بچالیا
حیدرآباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر ایک ماں نے مالی پریشانیوں اور اپنی چھ سالہ بیمار بیٹی کے علاج کے اخراجات برداشت نہ کرپانے کے باعث اسے حسین ساگر جھیل میں پھینک دیا۔ تاہم، ایک آٹو ڈرائیور کی بروقت مداخلت سے بچی کی جان بچ گئی۔ یہ واقعہ تاخیر سے منظر عام پر آیا۔
حیدرآباد: حیدرآباد میں ایک افسوسناک واقعہ پیش آیا، جہاں مبینہ طور پر ایک ماں نے مالی پریشانیوں اور اپنی چھ سالہ بیمار بیٹی کے علاج کے اخراجات برداشت نہ کرپانے کے باعث اسے حسین ساگر جھیل میں پھینک دیا۔ تاہم، ایک آٹو ڈرائیور کی بروقت مداخلت سے بچی کی جان بچ گئی۔ یہ واقعہ تاخیر سے منظر عام پر آیا۔
اطلاعات کے مطابق، بچی کی شناخت رُخسانہ کے نام سے ہوئی ہے، جو مبینہ طور پر ایک انفیکشن میں مبتلا تھی۔ اس کی ماں شبانہ گھریلو ملازمہ کے طور پر کام کرتے ہوئے اپنی دو بیٹیوں کی پرورش کررہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس کے شوہر نے خاندان کو چھوڑ دیا تھا۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق، شبانہ اپنی بیٹی کے علاج کے لیے درکار طبی اخراجات پورے کرنے میں دشواری کا سامنا کررہی تھی۔ اسی صورتحال میں اس نے مبینہ طور پر بچی کو حسین ساگر جھیل میں پھینک دیا۔
واقعے کو دیکھنے والے ایک آٹو ڈرائیور نے فوری طور پر جھیل میں چھلانگ لگائی اور بچی کو بحفاظت باہر نکال لیا۔ اس کی بروقت کوشش سے ایک بڑا سانحہ ٹل گیا۔
بچی کو بعد ازاں علاج کے لیے گاندھی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زیر علاج ہے۔
اس واقعے نے مالی مشکلات سے دوچار کمزور خاندانوں کی پریشانیوں اور طبی سہولتوں تک رسائی میں درپیش دشواریوں پر تشویش پیدا کردی ہے۔
واقعے کے حالات و واقعات اور پولیس کی جانب سے کی گئی کارروائی کے بارے میں مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔