تلنگانہ

تلنگانہ میں غیر قانونی پان مسالہ یونٹ کا پردہ فاش، 160 کروڑ روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

کارروائی کے دوران 76 لاکھ روپے مالیت کی پیکنگ کے لیے تیار مصنوعات سمیت تقریباً 5,500 کلوگرام تیار مال، 2,015 کلوگرام پان مسالہ مکسچر اور 810 کلوگرام تمباکو ضبط کیا گیا۔ اس کے علاوہ پیکنگ کا سامان، قابل اعتراض دستاویزات اور غیر قانونی سامان کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی دو گاڑیاں بھی ضبط کی گئی ہیں

حیدرآباد :   تلنگانہ میں مرکزی اشیا و خدمات ٹیکس (سی جی ایس ٹی) کے حکام نے میڈچل-ملکاج گیری ضلع میں ٹین شیڈ سے چلائی جا رہی ایک غیر قانونی پان مسالہ اور تمباکو تیار کرنے والی یونٹ کے حسابات کی جانچ کے دوران تقریباً 160 کروڑ روپے کی جی ایس ٹی  کی چوری کا پتہ لگایا ہے۔

سی جی ایس ٹی حکام نے گزشتہ 20 اگست کو مذکورہ یونٹ کے احاطے میں چھاپہ مارا۔ اس دوران پان مسالہ، تمباکو اور خوشبودار زردہ کی تیاری اور پیکنگ میں استعمال ہونے والی 40 غیر اعلانیہ پاؤچ پیکنگ مشینیں ضبط کی گئیں۔ چھاپے کے دوران یونٹ میں تقریباً 56 مزدور کام کرتے ہوئے پائے گئے۔

کارروائی کے دوران 76 لاکھ روپے مالیت کی پیکنگ کے لیے تیار مصنوعات سمیت تقریباً 5,500 کلوگرام تیار مال، 2,015 کلوگرام پان مسالہ مکسچر اور 810 کلوگرام تمباکو ضبط کیا گیا۔ اس کے علاوہ پیکنگ کا سامان، قابل اعتراض دستاویزات اور غیر قانونی سامان کی نقل و حمل میں استعمال ہونے والی دو گاڑیاں بھی ضبط کی گئی ہیں۔

سی جی ایس ٹی حکام کے مطابق یہ یونٹ بغیر کسی رجسٹریشن کے غیر قانونی طور پر چلائی جا رہی تھی اور تیار شدہ مصنوعات کو قابل اطلاق جی ایس ٹی سمیت دیگر ٹیکس ادا کیے بغیر ہی بازار میں بھیجا جا رہا تھا۔

اس معاملے کے اہم ملزم کو 21 اگست کو گرفتار کرکے خصوصی جج کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے اسے 14 دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ حکام نے بتایا کہ ضبط شدہ مال، مشینری، مزدوروں کی تعداد اور تحقیقات کے دوران ریکارڈ کیے گئے بیانات کی بنیاد پر ٹیکس چوری کی رقم کا تخمینہ تقریباً 160 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔