جرائم و حادثات

آئی فون کی قسط کے تنازع نے لیا المناک موڑ، بیٹے کو بچانے کی کوشش میں باپ کھائی میں جا گرا، ماں نے بھی لگادی چھلانگ

پولیس کے مطابق 18 سالہ کنال چاندگڈے نے آئی فون خریدا تھا اور اس کی ماہانہ قسطیں ادا کرنے کے لیے وہ اپنے اہلِ خانہ سے رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اسی معاملے پر گھر میں کشیدگی پیدا ہوئی اور حالیہ قسط کی ادائیگی کو لے کر کنال اور اس کے والد مرلی دھر چاندگڈے کے درمیان شدید بحث ہوئی۔

چھترپتی سمبھاجی نگر: مہاراشٹرا کے چھترپتی سمبھاجی نگر ضلع میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے واقعے نے پورے علاقے کو سوگ میں مبتلا کر دیا۔ ابتدائی طور پر جس واقعے کو حادثہ سمجھا جا رہا تھا، پولیس کی تحقیقات میں اس کے پسِ پردہ خاندانی تنازع سامنے آنے کی بات کہی گئی ہے۔

پولیس کے مطابق 18 سالہ کنال چاندگڈے نے آئی فون خریدا تھا اور اس کی ماہانہ قسطیں ادا کرنے کے لیے وہ اپنے اہلِ خانہ سے رقم کا مطالبہ کر رہا تھا۔ اسی معاملے پر گھر میں کشیدگی پیدا ہوئی اور حالیہ قسط کی ادائیگی کو لے کر کنال اور اس کے والد مرلی دھر چاندگڈے کے درمیان شدید بحث ہوئی۔

بحث کے بعد کنال ناراض ہو کر گھر سے نکل گیا اور تیس گاؤں کے علاقے میں واقع ایک پہاڑی پر پہنچ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے پر اس کے والدین بھی وہاں پہنچ گئے، جبکہ مقامی افراد کی بڑی تعداد بھی جمع ہوگئی۔

سابق سرپنچ سنجے جادھو سمیت کئی افراد نے کنال کو سمجھانے اور اسے خطرناک قدم اٹھانے سے روکنے کی کوشش کی۔ مقامی لوگوں نے اسے اپنی ماں اور مستقبل کے بارے میں سوچنے کی اپیل کی۔ بعض افراد نے اسے نیا آئی فون دلانے کی پیشکش بھی کی، تاہم کنال مبینہ طور پر بار بار کہتا رہا کہ وہ اب زندہ نہیں رہنا چاہتا۔

تقریباً تین گھنٹے تک اسے سمجھانے کی کوششیں جاری رہیں۔ دوپہر تقریباً ایک بجے کنال کے والد مرلی دھر پہاڑی کے اس حصے تک پہنچے جہاں ان کا بیٹا کھڑا تھا۔ انہوں نے بیٹے کو پیچھے کھینچ کر بچانے کی کوشش کی، تاہم اسی دوران دونوں کا توازن بگڑ گیا اور وہ گہری کھائی میں جا گرے۔

یہ منظر دیکھ کر کنال کی والدہ سنگیتا چاندگڈے شدید صدمے میں آگئیں اور کچھ ہی دیر بعد انہوں نے بھی پہاڑی سے نیچے چھلانگ لگا دی۔

واقعے کے بعد علاقے میں غم و صدمے کی فضا قائم ہے۔ پولیس معاملے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے تاکہ اس المناک واقعے کے تمام حالات اور وجوہات کا مکمل طور پر پتہ چلایا جا سکے۔