حیدرآباد

حیدرآباد میں وبائی امراض کے متاثرین کی تعداد میں اضافہ

عثمانیہ اسپتال کے آوٹ پیشنٹ شعبہ سے رجوع ہونے والے متاثرین کی تعداد بڑھ کردوہزار تک جاپہنچی ہے۔فیور اسپتال میں یہ تعدادجو 300درج کی جاتی تھی 800ہوگئی ہے۔

حیدرآباد:  شہرحیدرآباد میں وبائی امراض کے متاثرین کی اسپتالوں سے رجوع ہونے والوں کی تعداد میں بتدریج اضافہ ہوتاجارہا ہے۔شہر کے مشہور گاندھی اسپتال، عثمانیہ اسپتال اور فیور اسپتال کے آوٹ پیشنٹ شعبہ سے متاثرین کی بڑی تعداد رجوع ہورہی ہے۔

متعلقہ خبریں
گاندھی اسپتال میں مریض کی خودکشی
حیدرآباد دونوں ریاستوں کا مشترکہ دارالحکومت نہیں رہا
عثمانیہ ہاسپٹل کیلئے نئی عمارت تعمیر کی جائے گی: ہریش راؤ
لندن کے اسپتالوں پر سائبر حملوں سے متعدد آپریشنز منسوخ
1969 کی تحریک میں طلبہ پر کس نے گولی چلانے کی ہدایت دی؟ کے ٹی آر کا سوال

ڈینگو، ملیریا اورٹائی فائیڈ جیسے امراض کی علامات کے ساتھ اسپتالوں سے یہ افراد رجوع ہورہے ہیں۔چند دن پہلے تک آوٹ پیشنٹ شعبہ سے رجوع ہونے والوں کی تعداد صرف 100تک محدود تھی تاہم اس میں حالیہ دنوں کے دوران اضافہ ہوا ہے۔

گاندھی اسپتال میں آوٹ پیشنٹ شعبہ سے رجوع ہونے والوں کی تعداد بڑھ کرتقریبا1700ہوگئی ہے۔عثمانیہ اسپتال کے آوٹ پیشنٹ شعبہ سے رجوع ہونے والے متاثرین کی تعداد بڑھ کردوہزار تک جاپہنچی ہے۔فیور اسپتال میں یہ تعدادجو 300درج کی جاتی تھی 800ہوگئی ہے۔

متاثرین میں بچے، ضعیف افراد شامل ہیں۔ڈاکٹرس نے بارش کے موسم کے پیش نظر اپنے اطراف کے مقامات کی صفائی کو یقینی بنانے کا مشورہ دیاہے۔ڈاکٹرس نے کہاکہ ستمبر تا نومبر عموما اس طرح کے وبائی متاثرین کی تعداد میں اضافہ درج کیاجاتا ہے۔

درجہ حرارت میں کمی کے سبب ڈینگو کے وائرس پھیلنے کا امکان ہوتا ہے۔پھیپھڑوں کے انفکشن بھی ایک دوسرے کو ہوا کے ذریعہ منتقل ہوتے ہیں۔ڈاکٹرس نے ماسک کے استعمال کا مشورہ دیا ہے۔گاندھی اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹرراجہ راو نے کہا ہے کہ گذشتہ دو ماہ کے دوران ڈینگو کی علامات کے ساتھ رجوع ہونے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہاکہ اب تک کسی کی موت کی کوئی اطلاع نہیں ملی ہے۔انہوں نے بخار، شدید سردرد،پیٹھ میں درد جیسی علامات پر فوری طورپراسپتال سے رجوع ہونے کامشورہ دیا۔انہوں نے کہا کہ ڈینگو  متاثرین کے پلیٹ لیٹس کی تعداد پر نظررکھی جاتی ہے۔

a3w
a3w