حیدرآباد

سرچ انجن رینکنگ کے ذریعہ دھوکہ دہی کے بڑھتے واقعات۔چوکس رہنے شہریوں کو کمشنرپولیس حیدرآباد کامشورہ

حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے سرچ انجن رینکنگ کے ذریعہ کئے جانے والے آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شہریوں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سرچ رزلٹس میں سب سے اوپر نظر آنے والی یا اسپانسرڈ ویب سائٹس کا لازمی طور پر قابلِ بھروسہ ہونا ضروری نہیں ہے۔

حیدرآباد: حیدرآباد کے پولیس کمشنر وی سی سجنار نے سرچ انجن رینکنگ کے ذریعہ کئے جانے والے آن لائن دھوکہ دہی کے بڑھتے ہوئے واقعات پر شہریوں کو سخت انتباہ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سرچ رزلٹس میں سب سے اوپر نظر آنے والی یا اسپانسرڈ ویب سائٹس کا لازمی طور پر قابلِ بھروسہ ہونا ضروری نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں
پروفیسر مسعود احمد کی شاعری زندگی کے تمام شعبوں کی عکاس، کتاب ”رشحاتِ مسعود“ کی رسمِ اجرا، علمی و ادبی شخصیات کا خطاب
اسمارٹ فونس چوری کرنے والی ٹولی بے نقاب، 31ملزمین گرفتار
مصری گنج میں زیارتِ آثارِ مبارک و جشنِ ولادت سید ناغوث الاعظم دستگیرؒ، روحانی محفل کا شاندار انعقاد
عدلِ فاروقی کی جھلک: عمر بن عبدالعزیزؒ کا مثالی عہد مولانا مفتی ڈاکٹر حافظ محمد صابر پاشاہ قادری کاخطاب
تربیت، تفریح اور تخلیق کا حسین امتزاج،عیدگاہ اجالے شاہ سعیدآباد پر سی آئی او کے رنگا رنگ چلڈرن فیسٹیول کا انعقاد


کمشنر پولیس کے مطابق سائبر مجرم اب پیڈ ایڈورٹائزمنٹ اور ایڈوانسڈ ایس ای او تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے فرضی ویب سائٹس کو ٹاپ رینکنگ میں لا رہے ہیں جو اکثر سرکاری پورٹلس، بینکوں یا سرکردہ برانڈس کی ہوبہو نقل ہوتی ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ یہ دھوکہ دہی عام طور پر اس وقت شروع ہوتی ہے جب صارف گوگل یا دیگر سرچ انجن پر کسٹمر کیئر نمبر، ادائیگی کی خدمات یا آفیشل ویب سائٹس تلاش کرتے ہیں اور ان کی مماثلت کی وجہ سے دھوکہ کھا کر ان پر کلک کر دیتے ہیں۔

ایک بار ان جعلی صفحات پر پہنچنے کے بعد متاثرین سے ذاتی معلومات، لاگ ان کی تفصیلات یا ادائیگیاں طلب کی جاتی ہیں جس کے نتیجہ میں مالی نقصان اور شناخت کی چوری جیسے سنگین مسائل پیدا ہوتے ہیں۔


سجنار نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ کسی بھی ویب سائٹ پر مالی تفصیلات درج کرنے سے پہلے یو آر ایل کی اچھی طرح جانچ کریں اور سرچ رینکنگ پر بھروسہ کرنے کے بجائے براہ راست درست ویب ایڈریس ٹائپ کرکے آفیشل ویب سائٹس تک رسائی حاصل کریں۔

انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی قسم کے سائبر فراڈ کی صورت میں فوری طور پر نیشنل سائبر کرائم ہیلپ لائن نمبر 1930 پر اطلاع دیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے کیونکہ بیداری اور احتیاط ہی ان آن لائن گھپلوں کے خلاف سب سے موثر دفاع ہے۔