شمالی بھارت

ہندوستان کو اب ’انڈیا‘ سے امید: مولانا سجاد نعمانی

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اہل وطن سے سوال کیا کہ ہمارا ملک کہاں پہنچ گیا ہے؟ لڑکی کو برہنہ کرانا انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔

لکھنو: منی پور کے سنگین حالات پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ممتاز عالم دین مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے کہا کہ منی پور میں خواتین پر ہونے والے مظالم کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا۔یہ بات انہوں نے آج یہاں جاری ایک بیان میں کہی۔

متعلقہ خبریں
ہندوستان ۔ کینڈا میچ بارش کی نذر
منی پور میں تازہ تشدد، کئی مکانات کو آگ لگادی گئی
ملک کی جمہوری نوعیت کو بڑھانے کے لئے سخت محنت کرنے کی ضرورت : نوبل انعام یافتہ ماہر معاشیات
اکسپریس، پلے ویلگو بسوں میں خواتین کامفت سفر۔ احکام جاری
سال 2022 میں 65 ہزار ہندوستانیوں کو امریکی شہریت

انہوں نے کہا کہ ایک برہنہ لڑکی کی ویڈیو وائرل ہوئی ہے جو پہلے کی ہے لیکن منی پور میں انٹرنیٹ بند ہونے کی وجہ سے اب یہ منظر عام پر آئی ہے۔ ایسا لرزہ خیز واقعہ دیکھ کر روح کانپ اٹھتی ہے۔

 ایک لڑکی کے ساتھ جس حد تک ظلم کیا گیا، اس کا مجھ پر گہرا اثر ہوا ہے۔ نہ صرف مجھے بلکہ ایک مہذب معاشرے کے ہر فرد کو اس دکھ کو محسوس کرنا چاہیے۔ یہ خبر سن کر ہمارے دل غم اور غصے سے بھر گئے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن مولانا خلیل الرحمن سجاد نعمانی نے اہل وطن سے سوال کیا کہ ہمارا ملک کہاں پہنچ گیا ہے؟ لڑکی کو برہنہ کرانا انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔ یہ لوگ خواتین کے حقوق کا کاروبار کر رہے ہیں۔

 اب یہ حالت ہمارے ملک میں خواتین کی ہو گئی ہے۔ عورت چاہے ماں ہو، بیوی ہو، بہن ہو یا بیٹی، وہ ہر حال میں عزت اور محبت کی مستحق ہے، اس کے ساتھ احترام سے پیش آنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں وقتاً فوقتاً فلمیں دکھائی جاتی ہیں اور ملک کی اقلیتی برادری کے خلاف ماحول بنایا جاتا ہے۔ ہندوستان کے مسلمان آزادی کے بعد سے بہت کچھ برداشت کر رہے ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔ بلقیس بانو مسلم خواتین کی حالت کی صرف ایک مثال ہے۔

مسلمانوں کے بعد سکھوں کی باری تھی اور اب عیسائیوں کی باری ہے۔ منی پور میں میڈیا رپورٹس کے مطابق دو دنوں میں کئی گرجا گھروں کو جلا دیا گیا ہے۔ میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ اپنے دکھ، درد اور غصے کو کیسے بیان کروں۔

مولانا نعمانی نے کہا کہ میں اپوزیشن سے اپیل کرتا ہوں کہ آپ نے ملک کے سامنے امید کی کرن جگائی ہے جب پٹنہ اور بنگلور میں جلسے کے بعد آپ نے ملک کو یہ پیغام دیا کہ اب ’انڈیا‘ لڑائی لڑے گا اور ’انڈیا‘ اٹھے گا۔ اس ذمہ داری کو ایمانداری سے نبھائیں اور کسی بھی ہندوستانی کی امید کو ٹوٹنے نہ دیں۔

 اپوزیشن کے اس اتحاد کو باہمی اختلافات سے نہیں ٹوٹنا چاہیے۔ اپوزیشن کو یہ آخری موقع ملے گا کیونکہ اب’انڈیا‘کی عزت داؤ پر لگے گی، یہ ہارے گی تو انسانیت ہار جائے گی۔

سجاد نعمانی نے کہا کہ میں ملک کے قبائلیوں، دلتوں، اقلیتوں، او بی سی، سکھوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کی فکر نہ کریں بلکہ ملک کو بچانے کے لیے اکٹھے ہوں۔

 تب ہی ہندوستان کا اتحاد اور سالمیت برقرار رہے گی۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میں نہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ ہوں اور نہ ہی مخالف، میں ہندوستانی ہوں۔ میرے خیالات منی پور کے لوگوں کے ساتھ ہیں۔ وہاں جلد امن بحال کرنا اوّلین فریضہ ہونا چاہیے، وہ بھی ہمارے ملک کا ایک اہم حصہ ہے۔

a3w
a3w