کویت میں ایرانی ڈرون حملہ، چھ امریکی فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق
امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ کویت میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔
واشنگٹن: امریکہ نے تصدیق کی ہے کہ کویت میں ایک فوجی اڈے پر ایرانی حملے کے نتیجے میں چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکام کے مطابق یہ حملہ ایک ڈرون کے ذریعے کیا گیا جس نے فضائی دفاعی نظام کو چکما دیتے ہوئے امریکی فوج کے ایک بنکر کو نشانہ بنایا۔
امریکی حکام کے مطابق یہ واقعہ پورٹ شویبا میں قائم امریکی فوجی تنصیب پر پیش آیا، جہاں ڈرون حملے کے بعد بنکر کو شدید نقصان پہنچا۔ اس حملے کے نتیجے میں اتوار کے روز چھ امریکی فوجی مارے گئے۔
ابتدائی طور پر امریکی سینٹرل کمانڈ نے تین فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی، تاہم بعد ازاں تحقیقات کے بعد حکام نے پیر کے روز تصدیق کی کہ ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر چھ ہو گئی ہے۔ فوجی حکام کے مطابق ایک اہلکار زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا جبکہ ملبے سے مزید دو فوجیوں کی لاشیں نکالی گئیں۔
امریکی فوج نے ہلاک ہونے والے چار فوجیوں کے نام بھی جاری کر دیے ہیں جن میں کیپٹن کوڈی خورک (35)، سارجنٹ نوآ ٹیٹجینس (42)، سارجنٹ نکول امور (39) اور سارجنٹ ڈیکلن کوڈی (20) شامل ہیں۔ دیگر دو فوجیوں کی شناخت بعد میں ظاہر کیے جانے کا امکان ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگ سیت نے کہا کہ حملے میں ایک طاقتور ہتھیار استعمال کیا گیا جس نے فوج کے ٹیکنیکل آپریشنل سینٹر کو نشانہ بنایا۔ فوجی ذرائع کے مطابق حملے کے وقت اہلکار ایک عارضی دفتر میں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔
عہدیداروں کے مطابق ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی صورتحال کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب امریکہ نے باضابطہ طور پر اپنے فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے حالیہ کارروائیوں کے دوران خلیجی خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق عمان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور قطر میں قائم امریکی تنصیبات پر بھی میزائل حملے کیے گئے۔
واضح رہے کہ کویت اور امریکہ کے درمیان طویل عرصے سے دفاعی تعلقات قائم ہیں اور اس وقت خلیجی ملک میں 13 ہزار سے زائد امریکی فوجی تعینات ہیں۔
دریں اثنا امریکہ نے یہ بھی تصدیق کی ہے کہ کویت میں پیر کے روز ایک حادثاتی فوجی کارروائی کے دوران اس کے تین لڑاکا طیارے تباہ ہو گئے۔ حکام کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ خطے میں سکیورٹی صورتحال پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔