مشرق وسطیٰ

ایران کی آبنائے ہرمز کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی

قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے کئی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقے اور مغربی خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔

تہران: ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں کو تین زمروں میں تقسیم کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران ممالک کو "دشمن”، "غیر جانبدار” اور "دوست” کے طور پر درجہ بندی کرنے پر غور کر رہا ہے۔

متعلقہ خبریں
تاریخی ڈیل مکمل، امریکہ اور ایران نے جنگ بندی معاہدے کی تصدیق کردی
جرمنی آبنائے ہرمز میں مشن کے لیے تین بحری جہاز تعینات کرنے کا منصوبہ بنارہا ہے
جنگ بندی یا محض دکھاوا، غزہ، لبنان اور ایران میں حملے جاری
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا یوم مزدور پر پیغام
ایران نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے انکار کیا تو اسے ‘بے مثال مسائل’ کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ


اس منصوبے کے تحت "دشمن” ممالک کے جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے پر پابندی ہوگی، جبکہ "غیر جانبدار” ممالک کو وہاں سے گزرنے کے لیے فیس ادا کرنی ہوگی۔ "دوست” ممالک کو آسان یا بلا روک ٹوک داخلے کی اجازت دی جائے گی۔


قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے کئی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے، جس سے جانی و مالی نقصان ہوا۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقے اور مغربی خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔


ایران کے گرد بڑھتے تناؤ کے باعث آبنائے ہرمز کی حقیقی ناکہ بندی کی گئی ہے۔ یہ آبی راستہ خلیج فارس کے ممالک سے عالمی منڈی تک تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی فراہمی کا اہم ذریعہ ہے۔

اس صورتحال نے خطے میں تیل کی پیداوار اور برآمدات کو متاثر کیا ہے، جس کے نتیجے میں عالمی منڈی میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کافی بڑھ گئی ہیں۔