مشرق وسطیٰ

ایران کے نئے سپریم لیڈر روس میں نہیں ہیں: سفارتی ذرائع

قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے کئی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے، جس سے کافی نقصان ہوا اور عام شہری ہلاک ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقے اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔

تہران: ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے روس کے دورے کی مبینہ خبریں درست نہیں ہیں اور ان کی چوٹیں ان کے کام میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈال رہیں۔ یہ اطلاع ہفتہ کو ایک سفارتی ذریعے سے ملی۔


مارچ میں کویت کے اخبار الجرِیدہ نے ذرائع کے حوالے سے خبر دی تھی کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر حملے میں زخمی ہونے کے بعد علاج کے لیے ہنگامی حالت میں روس لے جائے گئے تھے۔


ذرائع نے بتایاکہ "نئے سپریم لیڈر چند گھنٹوں کے لیے بھی روس میں نہیں رہے ہیں۔ ان کو آئی چوٹیں سنگین نہیں ہیں اور وہ اپنے کام کاج میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں کر رہے ہیں۔”


قابلِ ذکر ہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران کے کئی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے، جس سے کافی نقصان ہوا اور عام شہری ہلاک ہوئے۔ اس کے جواب میں ایران نے اسرائیلی علاقے اور مغربی ایشیا میں امریکی فوجی ٹھکانوں پر حملے کیے تھے۔